سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 196 of 315

سیرت طیبہ — Page 196

١٩٦ نمائی سے آپ کو عربی زبان میں ایسا کمال بخشا کہ آپ کے مقابلہ پر اہلِ زبان تک کی زبانیں گنگ ہو کر رہ گئیں۔چنانچہ ایک جگہ خدا کے اس خاص فضل و رحمت اور خدا کی اس خاص الخاص عنایت اور نصرت کا ذکر تے ہوئے حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔دوست غور سے سنیں۔إِنَّ كَمَالِي فِي اللِّسَانِ الْعَرَبِي مَعَ قِلَّةِ جَهْدِى وَ قُصُوْرِ طَلَبِى ايَةٌ وَاضِحَةٌ مِنْ رَّبِّي لِيُظْهِرَ عَلَى النَّاسِ عِلْمِي وَ أَدَبِي فَهَلْ مِنْ مُّعَارِضِ فِي جُموعِ الْمُخَالِفِينَ وَ إِنِّي مَعَ ذَلِكَ عُلِّمْتُ أَرْبَعِينَ أَلْفًا مِنَ اللُّغَاتِ الْعَرَبِيَّةِ وَأَعْطِيْتُ بَسْطَةً كَامِلَةً فِي الْعُلُومِ الْآدَبِيَّةِ “ انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۳۴) یعنی عربی زبان میں میرا کمال با وجود میری کوشش کی کمی اور میری سعی کی قلت کے خدا کی طرف سے ایک روشن نشان ہے تا کہ اس ذریعہ سے خدا تعالیٰ لوگوں پر میری خدا داد علمی اور ادبی قابلیت ظاہر فرمائے اور مجھے دنیا بھر کے لوگوں پر غالب کر دے۔اب کیا میرے سارے مخالفوں ( کیا ہندوستان اور کیا مصر اور عرب اور کیا شام) میں سے کوئی ہے جو میرے مقابلہ پر اس میدان میں کھڑا ہو سکے؟ اس علمی اور ادبی کمال پر خدا کا مزید فضل یہ ہے کہ اس نے مجھے عربی زبان کی چالیس ہزار لغات کا معجزانہ رنگ میں علم عطا کیا ہے اور مجھے علوم ادبیہ میں کامل وسعت بخشی ہے اور مجھے علوم ادبیہ میں کامل نصرت بخشی ہے۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عربی زبان میں خدا تعالیٰ سے غیر معمولی نصرت