سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 11 of 315

سیرت طیبہ — Page 11

کے نیچے میری گردن دبی ہوئی ہے مگر ذرا اپنا چہرہ بھی دکھادیجئے! یہی حال اپنے محبوب آقا حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی ظلیت میں حضرت مسیح موعود کا تھا۔چنانچہ دوسری جگہ خدا تعالیٰ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں:۔در دو عالم مراعز یز توئی و آنچه میخواهم از تو نیز توئی (دیباچہ براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد ا صفحه ۱۶) (1) قرآن مجید سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس کے بے نظیر معنوی اور ظاہری محاسن کی وجہ سے بے حد عشق تھا مگر باوجود اس کے قرآنی محبت کی اصل بنیاد بھی خدا ہی کی محبت پر قائم تھی فرماتے ہیں :۔دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآں کے گرد گھوموں کعبہ مرا یہی ہے ( قادیان کے آریہ اور ہم روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۵۷) یعنی قرآن کی خوبیاں تو ظاہر وعیاں ہیں مگر اس کے ساتھ میری محبت کی اصل بنیا داس بات پر ہے کہ اے میرے آسمانی آقا! وہ تیری طرف سے آیا ہوا مقدس صحیفہ ہے جسے بار بار چومنے اور اس کے اردگر دطواف کرنے کے لیے میرا دل بے چین رہتا ہے۔“ ایک صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پالکی