سیرت طیبہ — Page 12
میں بیٹھ کر قادیان سے بٹالہ تشریف لے جا رہے تھے اور یہ سفر پالکی کے ذریعہ قریبا پانچ گھنٹے کا تھا۔”حضرت مسیح موعود نے قادیان سے نکلتے ہی اپنی حمائل شریف کھول لی اور سورۂ فاتحہ کو پڑھنا شروع کیا اور برابر پانچ گھنٹے تک اسی سورہ کو اس استغراق کے ساتھ پڑھتے رہے کہ گویا وہ ایک وسیع سمندر ہے جس کی گہرائیوں میں آپ اپنے از لی محبوب کی محبت و رحمت کے موتیوں کی تلاش میں غوطے لگا رہے ہیں۔(سیرۃ المہدی جلد ا حصہ دوم صفحہ ۳۹۵) (2) جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ کو اس کثرت اور اس تکرار کے ساتھ اپنی وفات کے قرب کے بارے میں الہام ہوئے کہ کوئی اور ہوتا تو اس کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے پڑ جاتے مگر چونکہ آپ کو خدا کے ساتھ کامل محبت تھی اور اُخروی زندگی پر ایسا ایمان تھا کہ گویا آپ اسے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں۔آپ ان پے در پے الہاموں کے باوجود ایسے شوق اور ایسے انہماک کے ساتھ دین کی خدمت میں لگے رہے کہ گویا کوئی بات ہوئی ہی نہیں بلکہ اس خیال سے اپنی کوششوں کو تیز سے تیز تر کر دیا کہ اب میں اپنے محبوب سے ملنے والا ہوں۔اس لئے اس کے قدموں میں ڈالنے کے لئے جتنے پھول بھی چن سکوں چن لوں (سلسلہ احمدیہ صفحہ ۱)۔یہ اسی طرح کی کیفیت تھی جس کے ماتحت آپ کے آقا رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں شوق کے ساتھ فرمایا تھا کہ:۔