سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 10 of 315

سیرت طیبہ — Page 10

از حریم تو از نیاں بیچ کس آگه نه شد ہر کہ آ گه شد شد از احسان بے پایان تو عاشقان روئے خود را ہر دو عالم مید ہی ہر دو عالم هیچ پیش دیده غلمان تو چشمه سیحی روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۹۲،۳۹۱) د یعنی اے وہ کہ تجھ پر میر اسر اور میری جان اور میرا دل اور میرا ہر ذرہ قربان ہے تو اپنے رحم وکرم سے میرے دل پر اپنے عرفان کا ہر رستہ کھول دے۔وہ فلسفی تو دراصل عقل سے کورا ہے جو تجھے عقل کے ذریعے تلاش کرتا ہے کیونکہ تیرا پوشیدہ رستہ عقلوں سے دور اور نظروں سے مستور ہے۔یہ سب لوگ تیری مقدس بارگاہ سے بے خبر ہیں۔تیرے دروازہ تک جب بھی کوئی شخص پہنچا ہے تو صرف تیرے احسان کے نتیجہ میں ہی پہنچا ہے۔تو بے شک اپنے عاشقوں کو دونوں جہان بخش دیتا ہے مگر تیرے غلاموں کی نظر میں دونوں جہانوں کی کیا حقیقت ہے؟ وہ تو صرف تیرے منہ کے بھوکے ہوتے ہیں۔66 دوست ان شعروں پر غور کریں۔حضرت مسیح موعود کس ناز سے فرماتے ہیں کہ اے میرے آسمانی آقا! تو نے بے شک مجھے گو یا دونوں جہانوں کی نعمتیں دے دی ہیں مگر مجھے ان نعمتوں سے کیا کام ہے مجھے تو بس تو چاہیے۔یہ وہی بات ہے کہ حضرت موسی کو خدا نے نبوت دی فرعون جیسے جبار بادشاہ پر غلبہ بخشا۔ایک قوم کی سرداری عطا کی مگر پھر بھی ان کی پکار یہی رہی رب آرنی انظُرْ إِلَيْكَ یعنی خدایا! تیرے احسانوں