سیرت طیبہ — Page 126
(۲۰) اسی طرح قرآن کے مندرجہ بالا زرین اصول کے ماتحت جماعت احمد یہ اپنے مقدس بانی کی اقتداء میں چین کے کنفیوشس اور ایران کے زرتشت اور ہندوستان کے دوسرے مذہبی پیشوا گوتم بدھ کی بزرگی کو بھی فی الجملہ تسلیم کرتی اور ان کے متعلق محبت اور عقیدت کے جذبات رکھتی ہے۔در حقیقت قرآنی تصریح کے علاوہ حضرت مسیح موعود کی یہ بھی تعلیم تھی کہ جس مذہبی پیشوا اور مامور الہی کو لاکھوں کروڑوں انسانوں نے قبول کر لیا اور ان کی صداقت دنیا میں قائم ہو کر وسیع علاقوں میں پھیل گئی اور راسخ ہوگئی اور غیر معمولی طور پر لمبے زمانہ تک ان کی مقبولیت کا سلسلہ چلتا گیا اُن کے متعلق قرآنی صراحت کے علاوہ عقلاً بھی یہ بات تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ اُن کی اصل ضرور حق و صداقت پر مبنی تھی کیونکہ ایک جھوٹے اور مفتری انسان کو کبھی بھی ایسی غیر معمولی قبولیت حاصل نہیں ہوسکتی۔حضرت مسیح موعود کی اس بے نظیر تعلیم نے جماعت احمدیہ کے نظریات میں گویا ایک انقلابی صورت پیدا کر کے دنیا میں ایک عالمگیر امن اور آشتی کی بنیاد قائم کر دی ہے بے شک فی الحال اس نظریہ نے ہماری مخالفت کا دائرہ بہت وسیع کر دیا ہے اور ہمیں گویا ایک عالمگیر آگ کے گھیرے میں لے لیا ہے کیونکہ ہر قوم ہمیں اپنار قیب اور حریف سمجھ کر ہم پر حملہ آور ہو رہی ہے مگر انشاء اللہ یہی نظریہ بالآخر عالمگیر اخوت کی بنیاد بنے گا اور حضرت سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آپ