سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 125 of 315

سیرت طیبہ — Page 125

۱۲۵ اپنے وقت کا اوتار یعنی نبی تھا جس پر خدا کی طرف سے رُوح القدس اُترتا تھا۔وہ خدا کی طرف سے فتح مند اور با اقبال تھا۔جس نے آریہ ورت کی زمین کو پاپ سے صاف کیا۔وہ اپنے زمانہ کا در حقیقت نبی تھا جس کی تعلیم کو پیچھے سے بہت باتوں میں بگاڑ دیا گیا۔وہ خدا کی محبت سے پر تھا اور نیکی سے دوستی اور شر سے دشمنی رکھتا تھا۔“ لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۲۹،۲۲۸) اسی طرح آپ نے ہندوستان کے ایک اور بڑے مگر جدید مذہبی بزرگ اور سکھ قوم کے بانی حضرت بابا نانک علیہ الرحمہ کی نیکی اور ولایت کو بھی تسلیم کیا اور اس بات کو دلائل سے ثابت کیا کہ حضرت بابا صاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے دلی معترف تھے اور انہوں نے ہندو قوم میں اپنے مخصوص صوفیانہ طریق پر نیکی اور پاکبازی اور اخلاق حسنہ اور روحانیت کے پھیلانے کی کوشش کی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود" فرماتے ہیں۔باوا نا نک ایک نیک اور برگزیدہ انسان تھا۔اور ان لوگوں میں سے تھا جن کو خدائے عزوجل اپنی محبت کا شربت پلاتا ہے۔۔۔۔بلا شبہ باوا نا نک صاحب کا وجود ہندوؤں کے لئے خدا کی طرف سے ایک رحمت تھی جس نے 66 اس نفرت کو دور کرنا چاہا تھا جو اسلام کی نسبت ہندوؤں کے دلوں میں تھی۔“ (رساله پیغام اصلح روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۴۶،۴۴۵)