سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 127 of 315

سیرت طیبہ — Page 127

۱۲۷ کے نائب اور بروز حضرت مسیح موعود کے ذریعہ دنیا ایک جھنڈے کے نیچے آجائے گی تب مسیح محمدی کا یہ قول پورا ہوگا کہ دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا۔میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“ تذكرة الشهادتین روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۶۷) میں شاید اپنے اصل مضمون سے کچھ ہٹ گیا ہوں کیونکہ میرا مضمون حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ کے اخلاق و عادات اور آپ کے جستہ جستہ حالات اور آپ کی مجلس کے کوائف اور آپ کے خاص خاص اقوال کے بیان کرنے سے تعلق رکھتا ہے مگر میں اس جگہ بظاہر اپنا رستہ چھوڑ کر بعض اصولی باتوں میں منہمک ہو گیا ہوں لیکن اگر غور کیا جائے تو جو باتیں میں نے اوپر بیان کی ہیں ان کا میری تقریر کے موضوع کے ساتھ گہرا نفسیاتی جوڑ ہے۔کیونکہ یہ باتیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فطری رجحان اور پاک نظریات پر بھاری روشنی ڈالتی ہیں اور اس بات پر قطعی دلیل ہیں کہ آپ کا قلب مطہر ایک طرف اپنے خالق و مالک کے ساتھ نہایت گہرا پیوند رکھتا تھا اور دوسری طرف اس کی تاریں دنیا بھر کی مخلوق کو اس طرح اپنے گھیرے میں لئے ہوئے تھیں کہ کوئی فرقہ اور کوئی طبقہ اور کوئی گروہ ان کے مخلصانہ اور محبانہ ارتباط سے باہر نہیں رہا۔آپ نے سچائی کی خاطر ہر قوم کی دشمنی سہیڑی مگر باوجود اس کے ہر قوم سے دلی محبت کی اور اپنے بے لوث اخلاص کو کمال تک پہنچادیا۔مگر ضروری ہے کہ میں اپنے مضمون کے ابتدائی حصہ کی طرح بعض جزوی باتیں بھی بیان کروں تا کہ اصول کے