سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 62
وہ دوسری قوموں کی دعوت کے لئے مامور نہ تھے۔یہ عام دعوت کی تحریک آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ سے ہی شروع ہوئی اور مسیح موعود کے زمانہ میں اور اس کے ہاتھ سے تکمیل تک پہنچی۔( شان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حصہ اوّل صفحہ ۷ ۱۲۸،۱۲) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں: مدینہ تشریف لے آنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ کیا کہ آپ اپنی تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچا ئیں۔۔۔۔۔۔۔۔آپ نے ایک مہر بنوائی جس پر محمد رسول اللہ کے الفاظ کھدوائے اور اللہ تعالیٰ کے ادب کے طور پر آپ نے سب سے اوپر اللہ کا لفظ لکھواد یا نیچے ”رسول“ کا پھر نیچے ”محمد“ کا۔محرم ۶۲۸ ، میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خط لے کر مختلف صحابہ مختلف ممالک کی طرف روانہ ہو گئے۔ان میں سے ایک خط قیصر روما کے نام تھا اور ایک خط ایران کے بادشاہ کی طرف تھا ایک خط مصر کے بادشاہ کی طرف تھا جو قیصر کے ماتحت تھا۔ایک خط نجاشی کی طرف تھا جو حبشہ کا بادشاہ تھا۔اسی طرح بعض اور بادشاہوں کی طرف آپ نے خطوط لکھے۔“ (دیباچہ تفسیر القرآن صفحه ۱۹۳) قیصر روم کے پاس جب خط پہنچا تو بادشاہ نے ترجمان سے پڑھوایا پھر حکم دیا کہ کوئی عرب کا قافلہ آیا ہو تو اُن لوگوں کو پیش کرو۔۔۔۔۔اتفاقاً ابوسفیان ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ اُس وقت وہاں آیا ہوا تھا۔بادشاہ نے ابوسفیان سے مختلف سوالات دریافت کئے اور جوابات سن کر یہ نتیجہ نکالا۔وپس میں سمجھتا ہوں کہ وہ نبوت کے دعوی میں سچا ہے اور میرا خود یہ خیال تھا کہ اس زمانہ میں وہ نبی آنے والا ہے مگر میرا یہ خیال نہیں تھا کہ وہ عربوں میں پیدا ہونے والا ہے اور جو جواب تو نے مجھے دیئے ہیں اگر وہ بچے ہیں تو پھر میں سمجھتا ہوں کہ وہ ان ممالک پر ضرور قابض ہو جائے گا“۔( بخاری ) 29 62 (دیباچہ تفسیر القرآن صفحه ۱۹۵)