سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ

by Other Authors

Page 63 of 99

سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 63

تیسرا خط آپ نے نجاشی کے نام لکھا۔۔۔۔۔۔جب یہ خط نجاشی کو پہنچا تو اُس نے بڑے ادب سے اس خط کو اپنی آنکھوں سے لگا یا اور تخت سے نیچے اُتر کر کھڑا ہوگیا اور کہا کہ ہاتھی دانت کا ایک ڈبہ لاؤ چنا نچہ ایک ڈبہ لایا گیا اس نے وہ خط ادب کے ساتھ اُس ڈبہ میں رکھ دیا۔اور کہا جب تک یہ خط حبشہ میں محفوظ رہے گا حبشہ کی حکومت بھی محفوظ رہے گی چنانچہ نجاشی کا یہ خیال درست ثابت ہوا۔۔۔۔۔۔‘ ( دیباچہ تفسیر القرآن صفحه ۱۹۹،۱۹۸) الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیغام حق دنیا کے ہر نفس کو پہنچانے کی پوری پوری کوشش فرمائی اور اس فریضہ کی ادائیگی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا یہاں تک کہ خدائے ذ والعرش نے فرمایا: لَعَلَّكَ بَاخِعْ نَفْسَكَ اَلَا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ۔(الشعراء:۴) ترجمہ: کہ شاید تو اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالے گا کہ وہ کیوں مومن نہیں ہوتے۔یعنی تیرا پاکیزہ دل کافروں کے سچائی کے انکار کو برداشت نہیں کر سکتا اور خواہش کرتا ہے کہ وہ بھی ہدایت پا جائیں۔( تفسیر صغیر صفحہ ۴۶۷) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فریضہ کو احسن رنگ میں ادا کرنے کے متعلق آپ کے عاشق صادق حضرت امام مہدی علیہ السلام فرماتے ہیں: یر زبر دست دلیل ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کی کہ آپ ایسے وقت میں آئے که ساری دنیا عام طور پر بدکاریوں اور بداعتقادیوں میں مبتلا ہو چکی تھی اور حق و حقیقت اور توحید اور پاکیزگی سے خالی ہو گئی تھی پھر دوسری دلیل آپ کی سچائی کی یہ ہے کہ آپ ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ کی طرف اُٹھائے گئے جب اپنے فرض رسالت کو پورے طور پر ادا کر کے کامیاب و با مراد ہو چکے۔( الحکم ۷ امارچ ۱۹۰۳ء صفحہ نمبر ۴ بحوالہ شان محمد محصہ اوّل صفحه ۳۵،۳۴) آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجتہ الوداع کے مبارک موقعہ پر ایک لاکھ صحابہ کرام کے مجمع کو جبل رحمت پر ایستادہ ہو کر جو عظیم الشان ہدایت دی اور پیغام حق پہنچایا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔تم سے خدا کے ہاں میری نسبت پوچھا جائے گا۔تم کیا جواب دو 63