سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 61
دلوں میں گھر کر گئی اور اُنہوں نے کہا یہ تو وہی نبی معلوم ہوتا ہے جس کی یہودی ہمیں خبر دیا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔چنانچہ اگلے سال حج کے موقعہ پر پھر مدینہ کے لوگ آئے۔بارہ آدمی اس دفعہ مدینہ سے یہ ارادہ کر کے چلے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں داخل ہو جائیں گے ان میں سے دس خزرج قبیلہ کے تھے اور دواؤں کے مٹی میں وہ آپ سے ملے اور انہوں نے آپ کے ہاتھ پر اس بات کا اقرار کیا کہ وہ سوائے خدا کے اور کسی کی پرستش نہیں کریں گے ، وہ چوری نہیں کریں گے، وہ بدکاری نہیں کریں گے، وہ اپنی لڑکیوں کو قتل نہیں کریں گے، وہ ایک دوسرے کے اوپر جھوٹے الزام نہیں لگائیں گے، نہ وہ خدا کے نبی کی دوسری نیک تعلیمات میں نافرمانی کریں گے۔یہ لوگ واپس گئے تو انہوں نے اپنی قوم میں اور بھی زیادہ زور سے تبلیغ شروع کردی۔“ (دیباچه تفسیر القرآن صفحه ۱۳۰،۱۲۹) آخر تیسرا حج بھی آپہنچا اور مدینہ کے حاجیوں کا قافلہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد پر مشتمل مکہ میں وارد ہوا۔۔۔۔۔۔اس دفعہ مدینہ کے مسلمانوں کی تعداد ۷۳ تھی۔اُن میں ۶۲ خزرج قبیلہ کے تھے اور گیارہ اوس کے تھے اور اس قافلہ میں دو عورتیں بھی شامل تھیں۔(دیباچه تفسیر القرآن صفحه ۱۳۲، ۱۳۳) بادشاہوں کو تبلیغ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کے وقت تبلیغ عام کا دروازہ کھل گیا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے بعد نزول اس آیت کے کہ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُوْلُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ (الاعراف:۱۵۹) دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کی طرف دعوت اسلام کے خط لکھے تھے اور نبی نے غیر قوموں کے بادشاہوں کی طرف دعوت دین کے ہرگز خطا نہیں لکھے کیونکہ 61