سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ

by Other Authors

Page 57 of 99

سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 57

کی جائے گی۔عورتوں اور غلاموں پر جو ظلم ہوتے رہے ہیں انہیں مٹا دیا جائے گا اور شیطان کی حکومت کی جگہ خدائے واحد کی حکومت قائم کر دی جائے گی۔(دیباچه تفسیر القرآن صفحه ۱۱۹ تا ۱۲۰ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب یہ شاندار تعلیم مکہ والوں کے سامنے بار بار پیش کی تو ایک دن مکہ کے سردار جمع ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چا ابوطالب کے پاس آئے اور کہا کہ اگر آپ کا بھتیجا ہمارے بتوں کو برا بھلا کہنا چھوڑ دے تو ہم اُسے اپنا سردار بنالیں گے یا اگر دولت کی خواہش ہے تو دولت پیش کر دیں گے اگر حسین ترین عورت اُس کو درکار ہے وہ مہیا کر دیں گے اگر وہ ہماری تجاویز قبول نہ کرے تو آپ کو اپنا بھتیجا چھوڑنا پڑے گا ورنہ آپ کی قوم آپ کی ریاست سے انکار کر کے آپ کو چھوڑ دے گی حضرت ابوطالب کے لئے یہ بات بہت شاق تھی چنانچہ انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلوا کر سارا ماجرا سنایا اور اُن کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اُن کے آنسوؤں کو دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔”اے میرے چا! میں یہ نہیں کہتا کہ آپ اپنی قوم کو چھوڑ دیں اور میرا ساتھ دیں آپ بیشک میرا ساتھ چھوڑ دیں اور اپنی قوم کے ساتھ مل جائیں لیکن مجھے خدائے واحدہ لاشریک کی قسم ہے کہ اگر سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں لا کر کھڑا کر دیں تب بھی میں خدا تعالیٰ کی توحید کا وعظ کرنے سے باز نہیں رہ سکتا۔میں اپنے کام میں لگا رہوں گا جب تک خدا مجھے موت دے۔آپ اپنی مصلحت کو خود سوچ لیں۔یہ ایمان سے پُر اور یہ اخلاص سے بھرا ہوا جواب ابوطالب کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی تھا۔اُنہوں نے سمجھ لیا کہ گو مجھے ایمان لانے کی توفیق نہیں ملی۔لیکن اس ایمان کا نظارہ دیکھنے کی توفیق ملنا ہی سب دولتوں سے بڑی دولت ہے اور آپ نے کہا اے میرے بھیجے جا اور اپنا فرض ادا کرتا رہ۔قوم اگر مجھے چھوڑ نا چاہتی ہے تو بیشک چھوڑ دے میں تجھے نہیں چھوڑ سکتا۔(ابن ہشام زرقانی) (دیباچه تفسیر القرآن صفحه ۱۲۱) 57