سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 56
نہیں کر سکتے مگر خدائے واحد تو مانگنے والوں کی ضرورت پوری کرتا ہے سوال کرنے والوں کو جواب دیتا ہے مدد مانگنے والوں کی مدد کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو زیر کرتا ہے اور اپنے عبادت گزار بندوں کو اعلی ترقیات بخشتا ہے۔اُس سے روشنی آتی ہے جو اس کے پرستاروں کے دلوں کومنور کر دیتی ہے پھر تم کیوں ایسے خدا کو چھوڑ کر بے جان بتوں کے آگے جھکتے ہو اور اپنی عمر ضائع کر رہے ہو۔تم دیکھتے نہیں کہ خدا تعالیٰ کی توحید کو چھوڑ کر تمہارے خیالات بھی گندے اور دل بھی تاریک ہو گئے ہیں۔تم قسم قسم کی وہمی تعلیموں میں مبتلا ہو۔حلال وحرام کی تم میں تمیز نہیں رہی۔اچھے اور برے میں تم امتیاز نہیں کر سکتے۔اپنی ماؤں کی بے حرمتی کرتے ہو اپنی بہنوں اور بیٹیوں پر ظلم کرتے ہو اور اُن کے حق انہیں نہیں دیتے۔اپنی بیویوں سے تمہارا سلوک اچھا نہیں۔یتامی کے حق مارتے ہو اور بیواؤں سے برا سلوک کرتے ہو۔غریبوں اور کمزوروں پر ظلم کرتے ہو اور دوسروں کے حق مار کر اپنی بڑائی قائم کرنا چاہتے ہو۔جھوٹ اور فریب سے تم کو عار نہیں۔چوری اور ڈاکہ سے تم کو نفرت نہیں۔جوا اور شراب تمہارا شغل ہے۔حصول علم اور قومی خدمت کی طرف تمہاری توجہ نہیں۔خدائے واحد کی طرف سے کب تک غافل رہو گے۔آؤ اور اپنی اصلاح کرو اور ظلم چھوڑ دو، ہر حقدار کو اُس کا حق دو۔خدا نے اگر مال دیا ہے تو ملک وقوم کی خدمت اور کمزوروں اور غریبوں کی ترقی کے لئے اُسے خرچ کر دعورتوں کی عزت کرو اور اُن کے حق ادا کرو۔یتیموں کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھو اور اُن کی خبر گیری کو اعلیٰ درجہ کی نیکی سمجھو۔بیواؤں کا سہارا بنو۔نیکیوں اور تقویٰ کو قائم کر و انصاف اور عدل ہی نہیں بلکہ رحم اور احسان کو اپنا شعار بناؤ۔اس دنیا میں تمہارا آنا بیکار نہ جانا چاہئے۔اچھے آثار اپنے پیچھے چھوڑو۔تا دائمی نیکی کا بیج بویا جائے۔حق لینے میں نہیں بلکہ قربانی اور ایثار میں اصل عزت ہے پس تم قربانی کرو۔خدا کے قریب ہو۔خدا کے بندوں کے مقابل پر ایثار کا نمونہ دکھاؤ تا خدا تعالیٰ کے ہاں تمہارا حق قائم ہو۔بے شک ہم حاکم ہیں مگر ہماری کمزوروی کو نہ دیکھو۔آسمان پر سچائی کی حکومت کا فیصلہ ہو چکا ہے اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے عدل کا تر از ورکھا جائے گا اور انصاف اور رحم کی حکومت قائم کی جائے گی جس میں کسی پر ظلم نہ ہوگا۔مذہب کے معاملہ میں دخل اندازی نہ 56