سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 55
پشت پر کوئی نہ تھا۔ایک نوجوان دوست اور ایک مدعی الہام۔یہ چھوٹا سا قافلہ تھا جو دنیا میں نور پھیلانے کے لئے کفر وضلالت کے میدان کی طرف نکلا۔لوگوں نے جب یہ باتیں سنیں اُنہوں نے قہقہے لگائے۔انہوں نے ایک دوسرے کو آنکھیں ماریں اور نظروں ہی نظروں میں ایک دوسرے کو جتایا کہ یہ لوگ مجنون ہو گئے ہیں ان کی باتوں سے گھبراؤ نہیں، بلکہ سنو اور مزہ اُٹھاؤ مگر حق اپنی پوری شان کے ساتھ ظاہر ہونا شروع ہوا۔اور یسعیاہ نبی کی پیشگوئی کے مطابق حکم پر حکم حکم پر لم ، قانون پر قانون، قانون پر قانون ( باب ۲۸، آیت (۱۳) ہوتا گیا۔تھوڑا یہاں تھوڑا وہاں “ اور ” ایک اجنبی زبان سے جس سے عرب پہلے نا آشنا تھے خدا نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ عربوں سے باتیں کرنی شروع کیں۔نوجوانوں کے دل لرزنے لگے۔صداقت کے متلاشیوں کے جسموں پر کپکپی پیدا ہوئی۔اُن کی ہنسی اور ٹھٹھے اور استہزاء کی آوازوں میں پسندیدگی اور تحسین کے کلمات بھی آہستہ آہستہ بلند ہونے شروع ہوئے۔غلاموں، نوجوانوں اور مظلوم عورتوں کا ایک جتھا آپ کے گرد جمع ہونے لگ گیا کیونکہ آپ کی آواز میں عورتیں اپنے حقوق کی داد رسی دیکھ رہی تھیں غلام اپنی آزادی کا اعلان سن رہے تھے ، نوجوان بڑی بڑی اُمیدوں اور ترقیوں کے راستے کھلتے ہوئے محسوس کر رہے تھے۔“ (دیباچه تفسیر القرآن صفحه ۱۱۴ ، ۱۱۵) ” جب مخالفت تیز ہوگئی اور ادھر سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے اصرار سے مکہ والوں کو خدا تعالیٰ کا یہ پیغام پہنچانا شروع کیا کہ اس دنیا کا پیدا کرنے والا خدا ایک ہے، اُس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔جس قدر نبی گزرے ہیں سب ہی اُس کی توحید کا اقرار کیا کرتے تھے اور اپنے ہم قوموں کو بھی اسی تعلیم کی طرف بلایا کرتے تھے۔تم خدائے واحد پر ایمان لاؤ۔ان پتھر کے بتوں کو چھوڑ دو کہ یہ بالکل بیکار ہیں اور ان میں کوئی طاقت نہیں۔اے مکہ والو! کیا تم دیکھتے نہیں کہ ان کے سامنے جوند رو نیاز رکھی جاتی ہے اگر اُس پر مکھیوں کا جھرمٹ آ بیٹھے تو وہ ان مکھیوں کو اڑانے کی بھی طاقت نہیں رکھتے اگر کوئی ان پر حملہ کرے تو وہ اپنی حفاظت نہیں کر سکتے۔اگر کوئی اُن سے سوال کرے تو وہ جواب نہیں دے سکتے اگر کوئی ان سے مدد مانگے تو وہ اُس کی مدد 55