سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 54
کیا میں خدا تعالیٰ کی اتنی بڑی ذمہ داری ادا کر سکوں گا ؟ کوئی اور ہوتا تو کبر اور غرور سے اس کا دماغ پھر جاتا کہ خدائے قادر نے ایک کام میرے سپرد کیا ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا م کرنا جانتے تھے۔کام پر اترانا نہیں جانتے تھے۔آپ اس الہام کے بعد حضرت خدیجہ کے پاس آئے۔آپ کا چہرہ اترا ہوا تھا اور گھبراہٹ کے آثار ظاہر تھے۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت خدیجہ نے پوچھا آخر ہوا کیا؟ آپ نے سارا واقعہ سنایا اور فرمایا میرے جیسا کمزور انسان اس بوجھ کو کس طرح اُٹھا سکے گا حضرت خدیجہ نے کہا کلا و الله ما یخزیک الله ابدا انک لتصل الرحم و تحمل الكل وتكسب المعدوم وتقرى الضيف وتعين على نوائب الحق(بخاری باب بد الوحی )۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خدا کی قسم یہ کلام خدا تعالیٰ نے اس لئے آپ پر نازل نہیں کیا کہ آپ نا کام اور نامراد ہوں اور خدا آپ کا ساتھ چھوڑ دے۔خدا تعالیٰ ایسا کب کر سکتا ہے آپ تو وہ ہیں کہ آپ رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرتے ہیں اور بے کس اور بے مددگار لوگوں کا بوجھ اُٹھاتے ہیں وہ اخلاق جو ملک سے مٹ چکے تھے وہ آپ کی ذات کے ذریعہ سے دوبارہ قائم ہورہے ہیں مہمان نوازی کرتے ہیں اور کچی مصیبتوں پر لوگوں کی مدد کرتے ہیں کیا ایسے انسان کو خدا تعالیٰ ابتلاء میں ڈال سکتا ہے؟ پھر وہ آپ کو اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو عیسائی ہو چکے تھے اُنہوں نے جب یہ واقعہ سنا تو بے اختیار بول اُٹھے آپ پر وہی فرشتہ نازل ہوا ہے جو موسیٰ پر نازل ہوا تھا۔گویا استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸ والی پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا۔جب اس بات کی خبر زید آپ کے آزاد کردہ غلام کو جو اس وقت کائی پچیس تیس سال کے تھے اور علی ” آپ کے چچا کے بیٹے کو جن کی عمر اس وقت گیارہ سال کی تھی پہنچی تو دونوں آپ پر فورا ایمان لے آئے۔(دیباچہ تفسیر القرآن صفحه ۱۱۳، ۱۱۴) اس کے بعد حضرت ابوبکر بھی فوراً ایمان لے آئے۔حضرت مصلح موعودؓ مزید تحریر فرماتے ہیں: یہ ایک چھوٹی سی جماعت تھی جس سے اسلام کی بنیاد پڑی ایک عورت کہ بڑھاپے کو پہنچ رہی تھی۔ایک گیارہ سالہ بچہ، ایک جوان آزاد کردہ غلام بے وطن اور غیروں میں رہنے والا جس کی 54