مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 99 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 99

184 tradition, they reformulated it by introducing a new concept of how knowledge ought to progress, a concept that still governs the way science is done today۔Better instruments and better methods would bring accurate results۔[56] گلاس ساتویں صدی میں مشرق وسطی میں گلاس کا استعمال عام تھا۔عراق کے شہر سامرا میں گلاس بنائے جاتے تھے۔موصل اور نجف میں بھی اعلیٰ قسم کا گلاس بنتا تھا۔دمشق کے علاوہ رقہ ، حلب ، سیڈون ہبران بھی گلاس بنانے کے مراکز تھے۔دمشق کا گلاس پوری اسلامی دنیا میں سب سے اچھا سمجھا جاتا تھا۔گلاس سے فلاسک، بوتلیں ، شراب کی بوتلیں اور عطر کی شیشیاں نیز کیمسٹری کے تجربات کے لیے ٹیسٹ ٹیوب بنائی جاتی تھیں۔گیارہویں صدی میں گلاس کھڑکیوں میں لگایا جاتا تھا۔بارہویں صدی میں مسلمان منقش گلاس استعمال کرتے تھے۔گلاس کے استعمال کے لیے مصر میں قاہرہ اور اسکندریہ مشہور تھے۔گیارہویں صدی میں یونان میں مصر کے کاریگروں نے دو فیکٹریاں لگائیں تو یورپ میں اس کا استعمال شروع ہوا۔منگولوں کے حملوں کے بعد شام سے بہت سارے کا ریگر یورپ چلے گئے۔پھر صلیبی جنگوں کے دوران دینیس (اٹلی) کے کاریگروں نے 1277 ء کے ایک معاہدے کے تحت شام سے گلاس بنا نا سیکھا۔ویس کے لوگوں نے اس فن کو خوب ترقی دی اور تیرہویں صدی میں آرٹ کا مظاہرہ گلاس پر کیا جانے لگا۔اسلامی اسپین میں غالباً ابن فرناس نے سب سے پہلے گلاس بنا یا تھا۔اس نے اپنے گھر میں ایک پلینی ٹیریم بنایا جس میں ستارے، بادل حتی کہ آسمانی بجلی کو بھی دیکھا جا سکتا تھا۔مشہور عرب امریکن تاریخ داں فلپ بہتی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ابن فرناس دنیا کا 185 پہلا انسان تھا جس نے قرطبہ کی پہاڑی سے ہوا میں اڑنے کی کوشش کی تھی۔برتن اور کپڑے اسلامی دنیا میں بعض شہر اپنی مصنوعات کی وجہ سے مشہور تھے جیسے خراسان شیشے کے کارخانوں کے لیے۔بصرہ صابن، کاغذ اور قواریر کے لیے۔کوفہ ریشمی کپڑوں کی تیاری اور ملک شام سونے چاندی کے قسم ہاتم کے برتن بنانے کے لیے مشہور تھا۔اندلس میں تلوار میں بنانے میں طلیطلہ اور کاغذ بنانے میں قرطبہ کا اپنا مقام تھا۔قرطبہ کے بنے چمڑے کو قرطبی (cordwain) اور بغداد کے کپڑے کو بالڈا چین (Baldachin) کہا جاتا تھا۔موصل کے بنے ہوئے کپڑے کو مکمل (muslin) کہتے تھے۔صابن صابن مسلمانوں کی ایجاد ہے۔صابن بنانے کی ترکیب رازی نے تفصیل سے لکھی ہے۔صابن بنانے کا عمل زیتون کے تیل اور الکلی پر مشتمل تھا۔بعض دفعہ اس میں نیترون بھی شامل کیا جا تا تھا۔شام صابن سازی کا مرکز تھا، جہاں رنگین، خوشبودار اعلی قسم کا صابن بنایا جا تا تھا۔شام کے شہروں نابلس ، دمشق ، حلب اور سامرا سے صابن غیر ممالک کو برآمد کیا جاتا تھا۔مسلمان صفائی کو ایمان کا نصف حصہ جانتے ہیں اس لئے صابن کا استعمال اسلامی ممالک میں ایک ہزار سال قبل ہو گیا تھا جبکہ اس وقت یورپ میں نہانا معیوب فعل سمجھا جاتا تھا۔انیسویں صدی میں ملکہ برطانیہ وکٹوریہ غسل لینے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی تھیں اس لئے وہ خوشبو کا استعمال بہت کرتی تھیں۔اسلامی اسپین میں کپڑا بھی نہایت عمدہ بنایا جاتا تھا۔یہاں کے کپڑے کی مانگ پوری دنیا میں تھی۔