مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 100 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 100

187 186 کاغذ کا غذا گر چہ چین میں ایجاد ہوا انگر 712ء میں یہ سمرقند میں بننا شروع ہو چکا تھا۔794 ء میں بغداد میں کاغذ کی پہلی مل قائم ہوئی تھی جہاں کا غذ کپاس سے بنایا جانے لگا تھا۔بغداد سے یہ اسپین پہنچا اور وہاں سے یورپ۔انگریزی کا لفظ ریم (Ream) یعنی میں دستوں کی گڈی عربی سے ماخوذ ہے۔اٹلی میں کاغذ کی پہلی فیکٹری 1261ء میں لگی جبکہ انگلستان میں پہلی مل 1494ء میں قائم ہوئی تھی (یعنی بغدار میں پیپرل کے قیام سے سات سو سال بعد )۔تیرہویں صدی میں مسلمان طباعت کے لیے خاص کوالٹی کا کا غذ استعمال کرتے تھے جس پر چھپائی کانسہ (bronze) کے بنے حروف تہجی سے کی جاتی تھی۔ان ہندسوں کو سیاہی یا پنکچر (tincture) میں بھگو یا جا تا تھا۔مسلمانوں کا یورپ پر سب سے بڑا احسان کا غذ کی صنعت ہے۔اس کے بغیر پرنٹنگ پریس کی ایجاد بالکل بیکار ہوتی۔کاغذ کے معیار کے مطابق اس کے نام ہوتے تھے۔بغدادی کاغذ سب سے عمدہ قسم کا ہوتا تھا جس پر خلیفہ وقت کے فرامین اور معاہدات قلم بند کیے جاتے تھے۔شامی کاغذ کی مختلف قسمیں تھیں جیسے حموی کاغذ سرکاری محکموں میں استعمال ہوتا تھا ، ہوائی کاغذ نہایت ہلکا کا غذ تھا جس پر لکھے خطوط کبوتروں کے ذریعے ارسال کیے جاتے تھے۔ایئر میل خط اسی کاغذ کی یاد دلاتے ہیں۔کا غذ مختلف رنگوں میں بنایا جا تا تھا۔مسلمانوں نے فنِ خوش نویسی کو بام عروج تک پہنچایا۔انہوں نے بہت سے پُرکشش اسالیب ایجاد کیے۔اس فن کا استعمال کا غذ پر تحریر کے علاوہ تاریخی عمارتوں پر قرآن مجید کی آیات کو خوبصورتی سے لکھنے میں کیا گیا۔انہوں نے جلد سازی کے فن کو بھی خوب ترقی دی، اس کا ثبوت وہ دلآویز کتابیں ہیں جو یورپ اور ایشیا کے کتب خانوں میں محفوظ ہیں۔میٹالرجی جہاں تک میٹالرجی (Metallurgy) کا تعلق ہے لو ہا، تانبا اور دوسری معدنیات کانوں سے نکال کر شہروں میں لائی جاتی تھیں۔شہروں میں انہیں بڑے بڑے تندوروں میں پگھلایا جاتا تھا۔زیگر و کا شہر سونا، چاندی، پارہ، بوریکس کے لیے مشہور تھا۔چاندی، تانبا اور سیسہ کے لیے افغانستان اور تانبے کے لیے قبرص اور لوہے کے لیے اناطولیہ اور بلوچستان مشہور تھے۔دھاتوں کو پگھلا کر کھانے کی قابیں (dishes)، کھانے کی ٹریز (trays)، پھول دان، پانی کے جگ اور ہتھیار بنائے جاتے تھے۔دمشق میں بنے ہوئے بندوق کے کندے یورپ میں مقبول عام تھے۔مسلمانوں کی ملٹری ٹیکنالوجی کے بارے میں ایک مصنف کہتا ہے: They invented siege machines derived from Roman technology, and made use of artillery۔Their advance command of chemistry made them the first to use gunpowder, besides the cannon balls, their projectiles included incendiary bombs and vitriol devices۔[57] ہائیڈرالک انجنئیر نگ خلیفہ ہارون الرشید بذات خود عالی دماغ انجینئر تھا۔تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ سوئیز نهر (Suez Canal) کھودنے کا خیال سب سے پہلے اس کو آیا تھا تا کہ بحیرہ روم اور بحیرہ احمر کو آپس میں ملا دیا جائے۔اس نے عین اسی مقام پر نہر کھودنے کا سوچا تھا جہاں اس وقت سوئیز کینال موجود ہے۔مگر اس کے وزیر یکی برمکی نے اس تجویز کے خلاف مشورہ دیا اور کہا کہ با زنطینی حکومت کا بحری بیڑہ بحیرہ روم سے بآسانی مکہ معظمہ کو سنگین خطرے میں ڈال دے گا۔چنانچہ یہ خیال ترک کر دیا گیا۔[58]