مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 98 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 98

183 182 16 مسلمانوں کی ایجادات صدیاں گزرنے کے باوجود قرونِ وسطیٰ کے مسلمان دانشوروں، سائنس دانوں، طبیبوں ، صنعت کاروں اور انجینئروں کی تخلیقات اور ایجادات کی تابانیوں میں ذرہ بھر بھی فرق نہیں آیا۔ان کے پیش کردہ نظریے، ان کی دریافتیں ، ان کی بنائی ہوئی مشینیں اور ان کے بنائے ہوئے آلات آج بھی ترقی کے اس دور میں جدید علوم و فنون کی بنیاد ہیں اور بعض نظریات معمولی ردو بدل کے ساتھ جوں کے توں تسلیم کیے جاتے رہے ہیں جن کا ذکر کتاب کے ابتدائی حصے میں کیا گیا ہے۔ان بے نظیر انسانوں نے کا رزار حیات کے مختلف النوع شعبوں میں عملی تجربے کیے اور علمی وفنی اور طبی کارناموں کے ذریعے بنی نوع انسان کی فلاح کے لیے فطرت کے رازوں سے پر دے اٹھائے۔اس کی قدرے تفصیل اس حصے میں پیش کی جارہی ہے۔امت مسلمہ میں جو انجینئر ، آر کی ٹیکٹ ، میٹالر جسٹ، سول انجینئر اور موجد پیدا ہوئے ان میں سے چند کے اسمائے گرامی یہ ہیں: جابر ابن حیان ( کیمیا داں، انجینئر ) ، الکندی (فری سسٹ، انجینئر، میٹالرجسٹ)، رازی ( کیمسٹ انجینئر ، فریشین ) بنوموسی برادران ( انجینئر )، ابن الہیشم (فری سسٹ انجینئر)، البیرونی (فری سسٹ انجینئر ) ، الجزاری (انجینئر ) اور تقی الدین (انجینئر )۔انجینئر نگ کے پیشے سے تعلق رکھنے والے اپنے نام کے ساتھ مہندس لکھتے تھے۔اسی طرح آرکیٹیکٹ المعمار، ریاضی داں الحبیب، واچ میکر الساعتی اور اصطرلاب بنانے والے اصطرلابی کہلاتے تھے۔بغداد پانچ سو سال تک امت مسلمہ کا صنعتی (industrial) اور تجارتی (commercial) مرکز رہا۔یہاں 1869ء میں لکھی جانے والی ایک کتاب میں ایک سو مشینوں کا ذکر ملتا ہے جیسے میکینکل کھلونے سروس ایلی ویٹرز ، ونڈ ملز، واٹر ملز، واٹر کلاک چلتی آلات، واٹر یلیز اور آٹو میٹک مشینیں [55]۔اس کتاب کا نام کتاب الحیل(Book of Artifices) ہے جو موسی برادران ( محمد 872ء ، احمد اور حسن) نے تصنیف کی تھی، یہ تینوں بھائی باکمال ریاضی داں، مترجمین کے کفیل اور قدرداں تھے۔ان ایک صد مشینوں میں سے ہیں عملی اور سود مند تھیں باقی محض سائنسی کھلونے۔ان مشینوں میں جس قسم کے پیچیدہ آلات اور سسٹم بیان کیے گئے وہ یہ ہیں: Feedback control system, closed loop principle, complex gear trains & automatic cut off machines۔مسلمانوں نے جو مشینیں ایجاد کیں ان کا خلاصہ یہ ہے: پینڈولم، واٹر کلاک ہنسی گھڑی ، اصطرلاب سمندری سفر کے لیے قطب نما، گن پاؤڈر ، توپ ، صابن، کاغذ، فوٹو گرافی کے لیے کیمرے کا اصول ، ڈوبے بحری جہاز کو سطح آب پر لانا ، پن چکی ، راکٹ کے ڈائیگرام علم مساحت کا آلہ (ورنئیر اسکیل)، ہائیڈرالک انجنئیر نگ۔مسلمان سائنس دانوں کو معلوم تھا کہ سائنس میں تحقیق اور اضافے کے لیے زیادہ بہتر ناپنے والے آلے یعنی پری سیزن انسٹرومینٹس (precision instruments) ضروری ہیں مثلاً البیرونی کو اس بات کا شدید احساس تھا کہ بطلیموس نے اپنے نظریات کے لئے جو آلات استعمال کیے تھے وہ اتنے چھوٹے تھے کہ ان کے مشاہدات سے صحیح نتائج اخذ کرنا غیر ممکن تھا۔ملاحظہ فرمائیے درج ذیل حوالہ : "While Muslim scientists did not wholly abandon the Greek