مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 51
89 88 رپورٹیں تیار کیں۔ان کے علمی شاہکار آئیڈیلز اینڈ ریئلیٹیز (Ideals and Realities) کا ترجمہ دنیا کی بارہ زبانوں میں ہو چکا ہے۔وہ شش جہت اور پہلودار شخصیت کے حامل تھے۔منجھے ہو ئے ادیب، عمدہ مقرر اور مصلح وقت تھے۔تیسری دنیا ، خاص طور پر مسلمانوں کے لیے جو کچھ انہوں نے کیا وہ سائنس کی تاریخ کا سنہری باب ہے۔بغداد کے بیت الحکمہ کی طرز پر انہوں نے اٹلی کے شہر تریستے (Trieste) میں انٹر نیشنل سینٹر فار تھیورٹیکل فزکس ( International Centre for Theoretical Physics-ICTP) قائم کر کے تیسری دنیا پر احسان کیا، جہاں سے تقریباً 30,000 ہزار مسلم سائنس داں سائنسی تعلیم سے بہرہ ور ہو کر سائنس کے شجر کی آبیاری کر رہے ہیں۔یہ مرکز اب عبد السلام انٹرنیشنل سینٹر فار تھیور مشکل فزکس ( Abdus Salam International Centre for Theoretical Physics) کے نام سے جانا جاتا ہے۔زین العابدین ڈاکٹر عبد الکلام (پیدائش 1931ء) نے ایروناٹیکل انجیر نگ (Aeronautical Engineering) میں 1958ء میں ڈاکٹریٹ حاصل کی۔1962ء میں ان کی سربراہی میں سٹیلائیٹ لانچ کیے گئے۔1982ء میں ہندوستان کا میزائل پروگرام انہوں نے شروع کیا۔1992ء میں وہ ہندوستان کے وزیر دفاع کے مشیر خاص بنے۔1998ء میں آپ کی قیادت میں ہندوستان میں ایٹمی دھماکے کیے گئے۔جولائی 2002ء میں آپ کا انتخاب ہندوستان کے صدر جمہوریہ کے طور پر ہوا۔7 علم فلکیات اسلامی دنیا میں سائنسی مضامین میں سب سے زیادہ اہمیت علم ہئیت کو دی گئی کیونکہ اس کے ذریعے مسلمان دنیا کے کسی بھی مقام سے قبلے کا رخ تلاش کر سکتے تھے۔نمازوں کے اوقات ادائیگی نیز مذہبی تہواروں جیسے نئے چاند کے طلوع ہونے پر عید الفطر، عید الاضحی یا رمضان کے مقدس مہینے کے پہلے دن کا تعین بھی ضروری تھا۔علم فلکیات میں مسلمانوں نے اصطرلاب کے علاوہ تمام اسلامی ممالک میں رصد گاہیں تعمیر کیں، بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ رصد گاہ مسلمانوں ہی کی ایجاد ہے۔انہوں نے آفتاب و ماہتاب کی روشنی ، زمین کی حرکت، روشنی کی رفتار جیسے دقیق مسائل پر تحقیقات کیں۔سال اور ماہ کی مدت مقرر کی۔کسوف و خسوف کے اسباب پیش کیے۔اسپین کے فاضل ہئیت داں اور آلات بنانے والے الزرقلی (1080ء) نے دعویٰ کیا کہ ستاروں کے مدار بیضوی ہوتے ہیں یعنی وہ حرکت کرتے ہوئے انڈے کی شکل کے دائرے میں سفر کرتے ہیں نہ کہ گول دائرے میں۔یہ اس دور کا ایک انقلابی نظر یہ تھا جس کی تصدیق کئی سو سال بعد کو پر ٹیکس نے کی۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ البیرونی نے اپنی ایک کتاب میں پورے یقین سے کہا تھا کہ زمین اپنے مدار پر گھومتی ہے۔ابن رشد نے مراکش میں قیام کے دوران من اسپائس (sun spots) دریافت کیے تھے۔خلیفہ مامون الرشید (833-786ء) اپنے باپ خلیفہ ہارون الرشید سے بڑھ کر سائنس دانوں کا سر پرست تھا۔اس نے یونانی زبان میں موجود سائنس کی کتابیں حاصل کرنے