مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 52
91 90 کے لئے بازنطینی شہنشاہ لیون دی آرمینین (820-813 Leon the Armenian) کے پاس سفارتی مشن بھیجا تھا۔اس کے حکم سے بہت سے مخطوطات کے تراجم عربی میں کیے گئے۔اس کی ہدایت پر پامیرا (Palmyra) کے مقام پر رصد گاہ تعمیر کی گئی۔اس نے کرہ زمین کے محیط (گھیر) کی پیمائش معلوم کرنے کے لیے ستر سائنس دانوں کو ذمے داری سونپی۔ان سائنس دانوں کا صدر الفرغانی تھا، انہوں نے زمین کا گھیر 25,009 میل نکالا جبکہ موجودہ پیمائش 858, 24 میل ہے۔اس کے کہنے پر دنیا کا ایک بڑا نقشہ بھی بنایا گیا تھا جو بڑی حد تک دنیا کے موجودہ نقشے کے مطابق ہے۔ابن عباس الجوہری نے المامون کے عہد خلافت میں بغداد (830-829ء) اور دمشق (833-832ء) میں کیسے جانے والے فلکی مشاہدات میں شرکت کی تھی۔اس نے اقلیدس کی جیومیٹری کی کتاب عناصر پر شرمیں لکھی تھیں۔الحجاج ابن یوسف (833ء) پہلا مسلمان ترجمہ نگار تھا جس نے اقلیدس کی عناصر اور بطلیموس کی انسٹی جیسی دقیق سائنسی کتابوں کے عربی میں تراجم کیے۔جبش الحسیب (874ء) نے دس سال تک بغداد میں اجرام فلکی کے مشاہدات کے بعد تین زیجیں تیار کیں۔829ء میں جب سورج کو گرہن لگا تو اس نے عین اس موقعے پر سورج کی بلندی سے وقت کا تعین کیا۔اس نے ٹیلر آف شیڈوز (tables of shadows) بھی تیار کیے۔علی ابن عیسیٰ اصطرلابی (836ء) کے نام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آلات رصد بنانے کا ماہر تھا۔اس نے اصطرلاب بنانے پر مقالے لکھے تھے۔سیجی ابن ابی منصور (831ء) نے بغداد میں فلکی مشاہدات کیسے اور کئی کتابیں علم ہیت پر لکھیں۔اس نے زیج تیار کی جس کا نام زیج ممتحن المامونی تھا۔اس کا پوتا ہارون ابن علی (901ء) بھی آلات رصد بنانے کا ماہر تھا۔بغداد کے تین ممتاز سائنس داں بھائیوں ”موسی برادران کوخلیفہ المامون نے ایک سائنسی پروجیکٹ یعنی عرض بلد کی ڈگری نکالنے کا کام سونپا۔اس کے لیے انہوں نے شمالی عراق کے ریگستان میں جاکر کام کیا۔انہوں نے چاند، سورج اور ستاروں کے مشاہدات کیے۔ایک ستاره ریگولس (Regulus) کا مشاہدہ بغداد میں واقع اپنے گھر سے دس سال تک (840-851ء) کیا۔ان کا یہ گھر بلند پل پر واقع تھا۔دو بھائیوں یعنی محمد (متوفی 872ء) اور احمد نے سال کی مدت معلوم کی جو 365 دن اور چھ گھنٹے تھی۔ابو العباس الفرغانی (861ء ، ترکستان) خلیفہ مامون الرشید کا نجم ، اور عالی مرتبہ ہئیت واں تھا۔اس نے بیت پر جامع کتابیں قلم بند کیں جیسے اصول علم النجوم، المدخل الی علیم ہدیت افلاک، کتاب الحركات السماویہ، جوامع علم النجوم - جوامع کالا طینی ترجمہ جیرارڈ آف کر یمونا نے 1135 ء میں کیا۔جرمن ترجمہ 1537 ء میں نیو رمبرگ سے، فرانسیسی ترجمہ 1546ء میں پیرس سے اور دوبارہ 1590ء میں فرینکفرٹ سے شائع ہوا۔اپینی زبان میں اس کا ترجمہ 1493ء میں منصہ شہود پر آیا۔انگریزی ترجمہ کم پینڈیم آف ایسٹرونومی (Compendium of Astronomy) یورپ میں سولہویں صدی تک مقبول عام تھا [25]۔اس نے طغیانی ناپنے کا آلہ (Nilometer) اور دھوپ گھڑی (sundial) بھی ایجاد کی۔ابو اسحق الکندی (873ء) وہ منفرد ماہر فلکیات تھا جس نے با قاعدہ رصد گا ہی نظام کی پیش رفت کی۔بعض مغربی مستشرقین نے اس کو اپنے عہد کا بطلیموس قرار دیا ہے۔اس نے ایک رسالے میں چاند کی 28 منزلیں بیان کیں۔اس نے بتلایا کہ چاند 26 دنوں میں کتنی مسافت طے کرتا ہے اور زمین پر اس کا طلوع اور غروب کیوں ہوتا ہے۔علم فلکیات پر اس کی درج ذیل کتابیں مشہور ہیں : کتاب فی المناظر الفلكية ، رسالہ فی کیفیات نجو المية ، كتاب في امتناع مساحة الفلك الاقصیٰ، رسالہ فی رجوع الكواكب ، رسالة في حركات الكواكب ، رسالة في علم الشعاع، رسالة في النجوم، رسالة في الهالات للشمس، والقمر الاضواء النیر ہ (سورج چاند کے گرد بالوں پر )، رسالۃ فی مطرح الشعاع ، رسالة في رؤیۃ الہلال۔ابو مشعر بلنی (886 Albumasar) خلیفہ معتمد (892-870ء) کے بھائی کا منجم تھا۔اس نے علم فلکیات پر 24 کتابیں تصنیف کیں جیسے بیت الفلک ، کتاب اثبات النجوم،