مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 50
87 86 بھی متحرک چیز کی رفتار اس کی حرکی قوت کے برابر ہوتی ہے( Speed of a moving object is equal to the moving force)۔اسی طرح اس نے یہ نظریہ بھی پیش کیا کہ وہ قوت جس کی وجہ سے سیب درخت سے نیچے زمین کی طرف گرتا ہے، اس قوت کی وجہ سے ہی اجرام سماوی بھی ایک مخصوص دائرے میں حرکت کرتے ہیں۔[22] یگانه روزگار ابن باجہ نے علم ہئیت میں خاطر خواہ اضافہ اس رنگ میں کیا کہ اس نے تھیوری آف اپنی سائکلس ( theory of epicycles ) کی تردید کی کیونکہ یہ ارسطو کے فزیکل ماڈل (physical model) سے میل نہ کھاتی تھی۔چنانچہ اندلس اور یورپ میں اس کے بعد سے بطلیموس کے نظام کائنات کو رد کر کے اس کا متبادل پیش کیا جانے لگا۔ابن ماجہ کے اس نظریے نے ٹامس ایکوئے نس (1274ء Aquinas)، ڈن اسکوٹس (1308 Dun Scotus) کو علمی طور پر بہت متاثر کیا اور آنے والے یورپین سائنس دانوں کو پرٹیکس (1543ء Copernicus)، ٹائیکو برا ہے (1601ء Tycho Brahe) گیلیلیو کے لیے راستہ ہموار کر دیا۔ان کی سوچ کی نہج اس طرف مڑگئی اور سورج کو نظام کا ئنات کا مرکز سمجھا جانے لگا۔ایک اور نظریہ جو بعد میں گیلیلیو اور نیوٹن کے قوانین حرکت کا جزو بن گیا، ابن باجہ نے یوں بیان کیا تھا: کتاب سے بہت علمی استفادہ کیا تھا۔الخازنی نے اپنی دوسری اہم کتاب میزان الحکمۃ میں کثافت کے جدول ( tables of densities) بھی دیے ہیں۔ڈکشنری آف سائنٹفک بایو گرافی میں الخازنی پر ایک مبسوط مقالہ لکھا کیا ہے جس میں اس کے ہائیڈرو اسٹیٹک بیلنس (hydrostatic balance) کا ڈائیگرام بھی دیا گیا ہے [24]۔اس کی کتاب میزان الحکمۃ حیدرآباد سے 1940ء میں شائع ہوئی تھی۔"In the absence of a medium, the body would move with its original velocity۔Velocity would decrease in proportion to the resistance of the medium۔" [23] ابن باجہ کی زندگی پر ایک دلچسپ کتاب رسائل فلسفیہ لابی بکر بن باجہ بیروت سے 1983ء میں منظر عام پر آئی تھی۔عبدالرحمن الخازنی (1200ء) تبجحر عالم تھا۔یہ مرو(Merv) کا رہنے والا تھا۔اس نے ایک کتاب کشش ثقل اور پانی کے وزن ، ثقافت اور حجم پر تصنیف کی۔راجر بیکن نے اس بے نظیر عبد الرحمن الخازنی کا بیان کیا ہوا میزان الحکمة ڈاکٹر عبد السلام (1996-1926ء) بیسویں صدی کے عظیم ریاضی داں، ماہر طبیعیات، منتظم اور مدرس تھے جن کو 1979ء میں دنیا کے سب سے بڑے سائنسی انعام نوبل پرائز سے نوازا گیا۔انہوں نے چالیس سال تک تحقیق اور تدریس کا کام کیا۔انہوں نے ایک درجن گراں قدر کتابیں تصنیف کیں اور 250 دقیق سائنسی مقالے لکھے، ایک سو پر مغز تقاریر اور درجنوں سائنسی تعلیمی