مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 49
85 84 حرارت (heat)، روشنی (light) ، قوت (force) ، خلا ( vacuum) ، انفنٹی (infinity) پر اظہار خیال کیا۔وقت (time) اور حرکت (motion) کے مابین تعلق دریافت کیا۔اس نے کہا کہ روشنی کی رفتار معین ہے۔سے 42 میل دور ایک موضع دھریالہ جلوپ کے 1795 فٹ اونچے پہاڑ پر سے زمین کا قطر اور محیط معلوم کیا۔اس نے زمین کا محیط 24779 میل نکالا جو موجودہ پیمائش سے 78 میل کم تھا۔البیرونی نے ستاروں کی زیج تیار کرنے کے علاوہ جن آلات رصد پر ٹھوس مقالے رقم کیے وہ ہے وہastrolabe ، planisphere اور armillary sphere ہیں۔ایک کینیڈین مصنف کی تحقیق کے مطابق البیرونی نظام شمسی پر یقین رکھتا تھا جس کے مطابق زمین سورج کے گرد گھومتی ہے اور اپنے محور پر بھی [20]۔وہ سائنسی مشاہدات اور قوانین سے اس قدر مطمئن تھا کہ زمین کے گول ہونے پر اس کو مزید کسی بھی دلیل کی ضرورت نہ تھی۔ول ڈیورانٹ اس بارے میں کہتا ہے: "(Albiruni) took it for granted that earth is round, noted the attraction of all things toward the centre of the earth۔The earth turns daily on its axis and annually around the sun۔" [21] زاویه شفاع ابن سینا کی بنائی ہوئی ڈائیگرام جس میں قوس و قزح کی وضاحت کی گئی ہے نکتہ سنج ، نکتہ شناس البیرونی بھی ایک جلیل القدرطبیعیات داں تھا۔وہ زمین کے گول ہونے ، اپنے محور پر گردش کرنے اور سورج کے گرد سالا نہ گردش پر یقین رکھتا تھا۔کتاب تفہیم میں اس نے زمین کا گول نقشہ دیا تا کہ مختلف سمندروں کا محل وقوع بتایا جاسکے۔اس نے آسمان پر ستاروں کے جھرمٹ یعنی کنسٹی لیشن (constellation) کو مختلف جانوروں کی تصویروں سے بیان کیا۔یہ طریقہ ابھی تک مروج ہے۔اس نے کہا کہ روشنی کی رفتار آواز کی رفتار کی نسبت بہت زیادہ ہے۔اس نے ایک میکانیکی کیلنڈر ایجاد کیا جس کی ڈرائنگ سائنس میوزیم لندن میں موجود ہے۔پھر اس نے ایک اصطرلاب بنایا جس میں گیئر (gear) لگے ہوئے تھے۔یہ بعد میں میکانیکی کلاک بنانے میں معاون ثابت ہوا [19]۔اس نے 1018ء میں جہلم (پاکستان) عالی دماغ البیرونی کے بارے میں تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ اس عالم کے ہاتھ میں ہر وقت قلم ہوتا تھا۔سال میں وہ صرف دو دن یعنی نوروز اور مہر جان کے دن تصنیف و تالیف کا کام نہیں کرتا تھا۔کتابوں کے بارے میں کہتا تھا کہ یہ میری اولا د معنوی ہیں۔اندلس کے درخشندہ فلسفی ابوبکر ابن ماجہ (1139ء، لاطینی نام Avempace) نے طبیعیات میں جو نئے نظریات پیش کیے وہ ابن رشد کی کتابوں کے ذریعے گیلیلیو جیسے نامور سائنس داں تک پہنچیں۔یا درہے کہ گیلیلیو اٹلی کے شہر پیڈ ڈا (Padua) کا رہنے والا تھا جہاں قرون وسطی میں عربی کتابوں کے تراجم کا کام پورے زور وشور سے ہوا تھا۔اس حقیقت کا ذکر ایک مصنف برک ہارٹ ( Burkhardt ) نے اپنی تصنیف مورش کلچر ان اسپین (Moorish Culture in Spain) میں بھی کیا ہے مثلاً ابن باجہ نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ کسی