مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 48 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 48

83 82 ایج آف فیتھ (Age of Faith میں اس کی تصنیف کتاب المناظر (لاطینی ترجمہ Opticae Thasaurus) کو علم المناظر کا شاہکار (masterpiece of optics) کہا ہے۔ابن الہیشم نے جو ریسرچ حد بی عدسوں پر کی تھی اس پر مزید تحقیق سے یورپ میں مائیکرواسکوپ (microscope) اور ٹیلی اسکوپ (telescope) ایجاد ہوئیں۔راجر بیکن ، ابن الہیشم کے علم بصریات پر تجربات سے اس قدر متاثر تھا کہ ول ڈیورانٹ یہ کہنے پر مجبور ہوگیا: ابن الہیشم کے بغیر راجر بیکن کے نام سے تاریخ کے اوراق خالی ہوتے: "Without Ibn al-Haitham, Roger Bacon would have never been heard of۔" (Age of Faith, by Will Durant) عراق میں پیدا ہونے والے اس سائنس داں ابن الہیشم ( بطلیموس ثانی ) نے گونا گوں سائنسی موضوعات پر ایک سو سے زیادہ کتابیں اور رسالے قلم بند کیے، جن میں سے چند کے نام یہ ہیں: تربیع الدائرہ، مسئلہ ہندیہ، اصول الکواکب، کتاب المناظر، بیت العالم، الہالہ قوس و قزح، صورت الکسوف ضوء القمر ، روئیۃ الکواکب۔ابن الہیشم کے مطابق روشنی ایک قسم کی توانائی ہے۔روشنی کے بارے میں اس کا نظریہ تھا کہ یہ نور ہے جو خط مستقیم میں سفر کرتی ہے۔اس کو سفر کرنے کے لیے کسی میڈیم یا واسطے کی ضرورت نہیں ہوتی۔اس نے آنکھ کی فزیالوجی (physiology)، بناوٹ، فریب نظر ( optical illusion ) علم تناظر (perspective) دور بینی تصویر ( binocular vision) رنگ بهراب (mirage) ، انعکاس اور انعطاف کے نظریے علم مرایا (dioptrics/catoptrics)، ہالے (halos) ، قوس و قزح (rainbow)، کہکشاں (galaxy)، دم دار ستارے (commet) جیسے دقیق موضاعات پر عمیق مطالعے سے ان کی سائنسی توجیہات پیش کیں۔اس نے تجربہ کر کے دکھایا کہ سورج اور چاند افق پر بڑے کیوں نظر آتے ہیں؟ سورج اور چاند ڈوبتے اور نکلتے کیسے ہیں؟ ستارے رات کے وقت جھلملاتے کیوں ہیں؟ اللہ نے انسان کو ایک کے بجائے دو آنکھیں کیوں دی ہیں؟ چھڑی کو پانی میں رکھا جائے تو وہ ٹیڑھی کیوں نظر آتی ہے؟ ہم دیکھتے کیسے ہیں؟ ہمیں چیزیں کیوں اور کیسے نظر آتی ہیں؟ غرضیکہ کسی مسئلے کا حل پیش کرنے سے قبل وہ عملی طریقہ اختیار کرتا ، پھر اپنے مشاہدے کے نتائج بیان کرتا تھا۔اس نے آنکھ کے مختلف حصوں کی تشریح کی اور آنکھ کے نازک ترین حصوں کو بیان کیا۔اس نے عدسہ اس حصے کا نام تجویز کیا جو آنکھ کے بیچ ابھرا ہوا ہوتا ہے۔یہ مسور کی دال کی شکل کا۔ہوتا ہے۔عدسہ کالاطینی ترجمہ لینز (lens) ہے۔لاطینی میں مسور کو لینٹل (lentil) کہتے ہیں جس سے لفظ لینز (lens) بن گیا۔ابن الہیشم نے تجربات کے ذریعے ثابت کیا کہ اگر کسی تاریک کمرے کی دیوار میں ایک چھوٹا سا سوراخ سورج کے رخ پر ہو اور اس سوراخ کے دوسری طرف کمرے میں ایک پردہ اس طرح ہو کہ باہر کی روشنی کا عکس اس پر دے پر پڑے تو پردے پر جن اشیاء کا عکس بنے گا وہ الٹی نظر آئیں گی۔اس کو کیمرہ آبسکیور کہا جاتا ہے۔صدیوں بعد فوٹو لینے والا کیمرہ اس سائنسی اصول کے پیش نظر بنایا گیا تھا۔اس لئے یہ کہنے میں مضائقہ نہیں کہ کیمرے کا موجد ابن الہیشم تھا۔ابن الہیثم کی کروی آئینوں پر تحقیقات اس کے زندہ جاوید کارناموں میں سے ایک ہے۔جب روشنی کی متوازی شعائیں ایک صاف مقعر آئینے (concave mirror) پر پڑتی ہیں تو وہ منعکس ہو کر ایک خاص نقطے میں سے گزرتی ہیں اس نقطے کو ماسکہ (focus) کہا جاتا ہے۔اس نے تجربات کے ذریعے دکھایا کہ انعکاس اور انعطاف کے زاویوں کا تناسب ہمیشہ یکساں نہیں ہوتا۔اس نے عدسے کی میگنی فائنگ پاور (magnifying power) کی تشریح کی اور کرہ ہوا میں انعطاف کا تفصیلی مطالعہ پیش کیا۔اس نے بیان کیا کہ صبح صادق اس وقت شروع یا ختم ہوتی ہے جب سورج افق سے 19 ڈگری نیچے ہوتا ہے۔اس نے بائی نا کولر ویژن (binocular vision) کی بھی وضاحت پیش کی۔ابن سینا نے بھی فزکس میں چند یادگار اضافے کیے۔اس نے ایک آلہ ایجاد کیا جو موجودہ دور شئیر کیلیپرس (Vernier Callipers) سے مشابہ تھا۔اس نے ، توانائی (energy)،