مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 117 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 117

221 220 مصنفوں کے ہاتھ کی کتابت شدہ ہیں۔بہت ساری کتابوں پر عالموں، نوابوں، بادشاہوں اور عظیم ہستیوں کے دستخط اور مہریں لگی ہوئی ہیں۔ڈیڑھ سو سے زیادہ ایک خاص قسم کے درخت کی چھال پر لکھی کتابیں ہیں۔پانچ سو سے زیادہ کتابیں طلا کاری، گل بوٹوں اور نقش و نگار کا نمونہ ہیں۔ایک بہت ہی باریک ہاتھی دانت کی پلیٹ پر شہنشاہ اکبر اور اس کے نورتنوں کی بنائی ہوئی تصویر ہے۔چمڑے اور کاغذ پر کہی ہوئی بعض کتابیں ہزار سال پرانی ہیں۔1700 سے زیادہ قلمی نسخے اس لائبریری کی زینت ہیں، جن میں سنسکرت اور ہندی کے نسخے بھی ہیں۔یورپ میں عربی کتب کا ذخیرہ شاید کوئی قاری یہ کہے کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ اس کتاب میں مسلمان سائنس دانوں کی جن تصانیف کا ذکر ہے وہ واقعی لکھی گئی تھیں اور یہ محض قصے کہانیوں والی بات نہیں ہے تو بصد ادب گزارش ہے کہ برطانیہ کی درج ذیل عظیم الشان لائیبریریوں میں عربی کتابوں کا جو نادر ذخیرہ موجود ہے وہ اس بات کی تصدیق کے لیے کافی ہے۔انڈیا آفس لائبریری ، لندن، برٹش لائبریری ، لندن، بوڈلین لائبریری (آکسفورڈ)، ایڈنبرا یو نیورسٹی لائبریری (اسکاٹ لینڈ) ، کیمبرج یونیورسٹی لائبریری ، ڈرہم یو نیورسٹی لائبریری، رائیل ایشیاٹک سوسائٹی لائبریری۔صرف برٹش میوزیم کی اسلامی مخطوطات کی فہرست دو جلدوں میں ہے اور چار ہزار مخطوطات پر مشتمل ہے۔یہاں اس بات کا ذکر دلچسپی کا باعث ہوگا کہ سلی کے بادشاہ فریڈرک دوم (1250-1194 || Fredrick) نے 1224ء میں نیپلز (Naples, Italy ) میں یورپ کی پہلی یو نیورسٹی ایک منشور کے تحت قائم کی تھی اس میں درس تدریس کے لیے تمام کتابیں عربی میں تھیں۔راقم السطور کو 1999 ء میں بوڈلین لائبریری دیکھنے کا موقعہ ملا تھا۔یہاں داخلے کے لیے کسی پروفیسر کے تعارفی خط کا ہونا ضروری ہے۔پاسپورٹ کی فوٹو کاپی بنا کر، دو پاؤنڈ فیس کی رقم لے کر ایک دن کے لیے مجھے اجازت نامہ دے دیا گیا۔پھر عاجز سے ایک کمرے میں بیٹھنے کے لیے کہا گیا جہاں پینسل اور قلم لے جانا ممنوع تھا۔وہاں عہد وسطی کی عربی کتب کی بڑے سائز کا ایک کیٹیلا گ تھا جس میں سے عاجز نے الرازی، جابر ابن افلح ، الزہراوی ، این زہر، ابن الہیشم ، ابن سینا، کی کتب کا انتخاب کیا اور متعلقہ افسر مجھے وہ کتابیں کچھ وقفے کے بعد لالا کر دیتا رہا۔میں اس بات کا شاہد ناطق ہوں کہ اس پیشِ نظر کتاب میں بیان کردہ تصانیف واقعی لکھی گئی تھیں اور وہ آج بھی دنیا کی عظیم الشان لائبریریوں میں موجود ہیں۔جرمنی میں صرف برلن لائبریری کے عربی مخطوطات کی فہرست دس ضخیم جلدوں میں دستیاب ہے۔ہر جلد میں ایک ہزار مخطوطات کا ذکر ہے۔اس کے علاوہ گو تھنگن ، بون تو بنگن ، ہائیڈل برگ، ہمبرگ، میونخ ، ٹیو بینگن کی جامعات کے کتب خانوں میں صد ہانا در اسلامی نسخے اور مخطوطات کا ایک ذخیرہ موجود ہے۔اسپین میں میڈرڈ سے چالیس میل دور اسکو ریال لائبریری اور میڈرڈ کی نیشنل لائبریری میں بھی صد با مخطوطات موجود ہیں۔(1999ء میں راقم السطور قرطبہ سے کار کے ذریعے لمبا سفر طے کر کے اسکور یال عربی کتب دیکھنے کے اشتیاق میں عبد الباسط کے ہمراہ گیا تھا مگر اس روز لائبریری بند تھی۔ہم نے خوبصورت محل نما عظیم الشان عمارت کے باقی حصے کی مایوس ہو کر سیر کی)۔بوڈلین لائبریری نے اسلامی دنیا کی ایک ہزار سالہ پرانی نادر کتب میں سے پچاس کتب کی نمائش کا اہتمام 1981 ء میں کیا تھا۔یہ کتابیں قرون وسطی کے علما نے فلسفہ ، طب، طبیعیات، ریاضی اور جغرافیہ جیسے علوم پر لکھی تھیں۔اس نمائش کا نام دی ڈاکٹرینا عربم (The Doctrina Arabum) تھا جوڑ یونٹی اسکول (Divinity School) کی پانچ سوسالہ قدیم عمارت میں لگائی گئی تھی۔نمائش میں راجر بیکن کی کتاب اوپس ٹرئیس (Opus Tertius) بھی تھی جس میں اس نے ابن الہیشم اور الزر قلی کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔مائیکل اسکاٹ کی حیوانیات پر ترجمہ کردہ کتابیں بھی تھیں جو اس نے بادشاہ فریڈرک دوم کے حکم پر کی تھیں۔یونانی