مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 116 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 116

219 218 ن الدین ابن الخطیب نے نصحتہ الطیب میں لکھا ہے کہ یہ کتب خانے ایسے تھے کہ محنتی اور شوقین افراد علم کے اتھاہ سمندر میں ڈوب کر اس کی گہرائیوں سے قیمتی جواہر باہر نکال لاتے تھے : "۔۔۔۔where studious could dive into the fathomless sea of knowledge, and bring up its inestimable pearls۔"[65] قرطبہ کے زوال کے بعد طلیطلہ، ویلنسیا، بارسی لونا اور غرناطہ کے لوگ کتب خانوں سے کتابیں اٹھا کر لے گئے۔یورپ کی مشہور یو نیورسٹیوں اور لائبریریوں جیسے آکسفورڈ ، کیمبرج، ڈرہم، برلن ، گوتھنگن ، بون، ہائیڈل برگ ، ٹیوبنگن ، ویانا، ویٹیکن ، استنبول ، پیرس اور میڈرڈ کی اسکو ریال کی لائبریریوں میں تین لاکھ کے قریب نسخے ابھی ایک محفوظ ہیں۔برٹش میوزیم کی عربی کی کتابوں کا کیٹیلاگ دو ضخیم جلدوں میں اور برلن کی لائبریری کا کیٹلاگ دس جلدوں میں ہے۔شمالی امریکہ میں مانٹریال کی میک گل یونیورسٹی (Mc Gill University) میں ایک لاکھ کتابیں اور عربی، فارسی، ترکی اور اردو کے ہاتھ سے لکھے ہوئے نادر نسخے موجود ہیں۔اسی طرح امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے کتب خانے میں بھی اسلامی طب پر نادر و نایاب قلمی نسخے موجود ہیں۔اس کی ویب سائٹ یہ ہے :www۔nlm۔nih۔gov/arabic نصیر الدین الطوسی نے مراغہ میں جو رصد گاہ بنائی تھی اس میں بھی ایک بہت بڑا کتب خانہ تھا جس میں کتابوں کی تعداد لاکھوں میں تھی۔ہندوستان کے شہنشاہ جلال الدین موجودہ زمانے میں ہندوستان کے دو کتب خانے خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں ایک پٹنہ کی خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری اور دوسرے رضا لائبریری، رام پور۔خدا بخش لائبریری کو بانکی پور، پٹنہ میں 29 اکتوبر 1891ء کو وقف قرار دیا گیا تھا۔یہ بنیادی طور پر مخطوطات کی لائبریری ہے۔خصوصاً یہاں عربی اور فارسی کتابوں کا بے مثل ذخیرہ موجود ہے۔یہاں 15000 قلمی نسخے ہیں جن کا کیٹیلا گ چونتیس جلدوں میں ہے۔اس کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ یہاں مغلیہ عہد کی انمول پینٹنگز (paintings) بھی محفوظ ہیں۔اردو کے پرانے رسالوں اور جرائد کا بہت بڑا ذخیرہ ہے۔ایک ہزار سے کچھ زیادہ رسالوں کے دولاکھ شمارے دستیاب ہیں جن میں شائع شدہ مضامین کے فہرست وار کیٹیلاگ کے کارڈ دو لاکھ کے قریب ہیں۔لائبریری قابل ذکر قلمی نسخوں کو جدید کتابوں کی شکل میں چھاپ رہی ہے۔کچھ روز پہلے نارتھ یارک ( ٹورنٹو، کینیڈا) کی پبلک لائبریری میں میری نظر سے تاریخ کشمیر مؤلفہ محمد اعظم مکتوبہ 1758 ء گزری۔اس کا اردو ترجمہ بادشاہ محمد شاہ کے عہد (1846ء) میں دہلی سے طبع ہوا تھا۔خدا بخش لائبریری نے اس کی عکسی اشاعت 2000 ء میں شائع کی ہے۔دیوان حافظ کا ایک نسخہ یہاں موجود ہے جس کو ہمایوں ایران میں سیاسی پناہ کے دوران واپسی پر اپنے ساتھ لایا تھا۔سائنس پر بھی بہت سے مضامین ہیں جبکہ اردو داں طبقہ فراموش کر چکا ہے کہ اردو میں کبھی سائنس کا ایسا زبردست ذخیرہ موجود تھا۔ایک اہم شعبہ یہاں آڈیو ٹیپنگ محمد اکبر (1605-1556ء) کی لائبریری عظیم الشان تھی اس میں صدیوں پرانے ، نایاب قلمی ( audio-taping) کا ہے جو ہم لوگوں کی آوازوں کی صدا بندی کرتا ہے۔نسخے جمع تھے۔وہ ہاتھ سے کتابت شدہ کتابوں کو مشین پر چھپی کتابوں کے مقابلے ترجیح دیتا تھا۔ایک تاریخ داں کے مطابق اس کی لائبریری میں 24,000 کتابیں تھیں جن کی قیمت ساڑھے تین ملین ڈالر تھی۔وہ شاعروں کو بے دریغ وظائف دیتا تھا۔اس کو ہندو شاعر بیر بل اتنا عزیز تھا کہ اس نے ایک چٹکی میں اس کو ملٹری کا جرنیل بنا دیا۔اس کے دربار کی زبان فارسی تھی اس لیے مہا بھارت یسنسکرت سے بہت سی مذہبی اور علمی کتابیں فارسی میں ترجمہ کی گئیں۔[66] سمیت رضا لا تبریری کا آغاز 29 نومبر 1794 ء میں ہوا تھا۔یہ رام پور کے آخری نواب رضا علی خاں کے نام سے منسوب ہے۔یہاں پندرہ ہزار نایاب سکے اور تصویریں ہیں۔دس زبانوں میں پچاس ہزار کے قریب نادر قلمی نسخوں ، نایاب کتابوں ، دستاویزوں، ہاتھ کی بنی تصویروں ، علم نجوم کے آلات، کمپاس، گلوب، ہاتھی دانت پر بنی تصویروں، دست کاری ، خطاطی، طلا کاری ، انوکھے کاغذ اور روشنائی کے نایاب نمونوں کا بے مثال خزانہ پوشیدہ ہے۔بعض کتابیں