مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 118 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 118

223 222 عالم اپالو نیوس آف پیر گا (Appalonius of Perga) کی کتاب کو نکس (Conics) کے تین حصوں کا عربی ترجمہ بھی تھا جن کے مطالعے سے ایڈمنڈ ہیلی (Edmond Halley) نے اپنی کتاب 1710ء میں شائع کی تھی۔نمائش میں الغ بیگ کی زیج عربی زبان میں تھی جس کا لاطینی میں ترجمہ کر کے پروفیسر جان گریوز (Prof۔John Greaves) نے لاطینی میں ستاروں کی زیج تیار کی تھی۔یہاں لاطینی زبان میں وہ مخطوطات بھی تھے جو تیرہویں اور چودہویں صدی میں یورپ کی جامعات میں بطور نصاب شامل تھے، ایسے مخطوطات مرٹن کالج کی لائبریری میں محفوظ ہیں۔ویٹیکن کی مشہور زمانہ لائبریری جس کا آغاز 1451ء میں ہوا تھا اس میں دو لین کتابوں کے ساتھ ساتھ 75,000 مخطوطات عربی زبان کے علاوہ دوسری زبانوں میں موجود ہیں۔اسی طرح یہاں قرآن پاک کی 33 ویں سورۃ آیات 73 اور 74 کا ایک صفحہ موجود ہے جو تیونس میں تیرہویں صدی میں لکھا گیا تھا۔امریکہ کی نیشنل لائبریری آف میڈیسن ، میری لینڈ میں بھی طب کے موضوع پر نادر مخطوطات اور کتابوں کا بیش قیمت ذخیرہ موجود ہے۔ہندوستان کی خدا بخش لائبریری، پٹنہ اور رضا لائبریری، رام پور، سالار جنگ میوزیم ، حیدر آباد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، دار العلوم دیوبند، جامعہ ہمدردنئی دہلی اور بکثرت ذاتی کتب خانوں میں بھی کتابوں اور مخطوطات کا انمول ذخیرہ موجود ہے۔٦ ļ 18 ہندوستانی اسلامی تہذیب اور سائنس تاریخ دانوں کے مطابق رسالت مآب حضور سرور کائنات ﷺ کی بعثت مبارکہ سے قبل مالا بار کے ساحل پر عربوں کے کچھ قبیلے آباد تھے۔ظہور اسلام (610ء) کے بعد ان لوگوں نے مقامی آبادی میں تبلیغ کا کام شروع کیا۔کہا جاتا ہے کہ کالی کٹ کا بادشاہ ان کی تبلیغی کوششوں سے مشرف بہ اسلام ہوا تھا۔آٹھویں صدی کے بعد عرب اور ایران سے کثیر تعداد میں لوگ ہندوستان آئے۔محمد بن قاسم پہلا مسلمان جرنیل تھا جس نے 711ء میں سندھ پر قبضہ کیا۔ہندوستان میں پہلی اسلامی سلطنت غزنوی خاندان کی تھی۔1258ء میں سقوط بغداد کے بعد عراق کے علماء سائنس داں ، ادیب، ماہرین طب، پناہ لینے ہندوستان منتقل ہوئے۔اس طرح یہاں اسلامی تہذیب کے ساتھ ساتھ اسلامی سائنس کے نئے دور کا آغاز ہوا۔غلام خاندان کی حکومت کے دوران دہلی کے عظیم الشان قطب مینار کی تعمیر ہوئی۔دہلی کے نواح میں مسلمان حکمرانوں کے مزار فن تعمیر کا جیتا جاگتا نمونہ ہیں۔بلبن کا مزار ، ہمایوں کا مزار شالیمار باغ ، شاہی مسجد لاہور، آگرہ میں شاہجہاں کا تعمیر کردہ تاج محل فن تعمیر کا لازوال شاہکار ہیں۔دہلی کے حکمرانوں کو میکانیکی مشینیں (mechanical devices) بہتر سے بہتر بنانے کا بہت شوق تھا۔جن میں چرخی (pulley) اور پیل پایہ ( piers) قابل ذکر ہیں۔کتاب صراط فیروز شاہی میں ایسے تیرہ آلات کا ذکر کیا گیا ہے جن کے ذریعے بھاری پتھر اور تعمیر کا سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جا تا تھا۔