مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 115 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 115

217 216 مصر کے فاطمی خلیفہ الحاکم بامر اللہ نے بھی قاہرہ میں ایک اکیڈمی دار الحکمہ کی بنیاد رکھی جس کا ڈائر یکٹر مشہور ریاضی داں ابن یونس (متوفی 1009ء) تھا۔یہ اکیڈمی قاہرہ میں 1005-1117 ء تک کام کرتی رہی۔بیان کیا جاتا ہے کہ اس کے کتب خانے میں سولہ لاکھ کتابیں تھیں۔اس کے چالیس کمرے تھے۔لوگ یا تو وہاں بیٹھ کر کتابوں کا مطالعہ کرتے یا پھر گھر لے جاتے تھے جس کے لیے ان کو نام اور پتہ دینا ہوتا تھا۔بعض نادر مخطوطات ایسی الماریوں میں رکھے جاتے تھے جن پر قفل لگا ہوتا تھا۔الماری کے دروازے پر فہرست کتب لٹکی ہوتی تھی جس کو دیکھ کر کتاب عاریتاً کی جاسکتی تھی۔اس اکیڈمی میں رصد گاہ ، ہوٹل اور طبیہ کالج بھی قائم تھے۔خلیفہ الحکم الثانی 976-961 ء نے قرطبہ میں 27 فری اسکول (free school) کھول رکھے تھے۔یہاں کی یونیورسٹی میں اس نے چیئر (Chair) قائم کی تھیں جن کے لیے پروفیسر مشرق کے اسلامی ممالک سے لائے جاتے تھے۔آج کل یورپ اور امریکہ کی جامعات میں کسی ممتاز شخصیت کے نام سے جو چیئر قائم کی جاتی ہیں، وہ اسی کی نقل ہیں۔اس کو خود کتابوں کے مطالعے کا اس قدر شوق تھا کہ اس کی شاہی لائبریری میں چار لاکھ کتابیں تھیں جن کا کیٹیلاگ چالیس جلدوں میں تھا جن میں صرف کتاب کا نام اور کتاب کی مختصر تفصیل درج کی گئی تھی۔اس نے سیکڑوں کتابوں کا مطالعہ کرتے ہوئے ان پر اپنے ہاتھ سے حاشیے لکھے تھے۔خود اس نے ایک کتاب تاریخ الاندلس کے نام سے لکھی۔اس مشہور زمانہ خزینۃ الکتب کی بنیاد اس کے والد ماجد خلیفہ عبد الرحمن الثالث نے رکھی تھی۔الحكم الثانی نادر کتابوں کے لیے سرکاری نمائندے مشرق کے ممالک میں بھیجا کرتا تھا۔اس نے ایرانی شاعر الاصفہانی کو اس کے دیوان کتاب الاغانی ( گیتوں کی کتاب) کی پہلی جلد حاصل کرنے کے لیے ایک ہزار دینار کی پیش کش کی تھی۔(واضح رہے کہ عربی ادب کی تاریخ پر کتاب الاغانی 21 جلدوں میں ہے )۔قرطبہ کی اس شاہی لائبریری کی الماریاں خوشبودار لکڑی سے بنی تھیں جن میں کتابیں بڑی ترتیب اور نفاست سے رکھی جاتی تھیں۔اس کے کمروں کی چھت پر دیدہ زیب بیل بوٹے بنے ہوئے تھے۔اس کا فرش سنگ مرمر کا تھا۔ریڈنگ روم سے ملحقہ کمرے میں درجنوں کی تعداد میں کا تب، جلد ساز اور نقاش دن رات کام میں مصروف رہتے تھے۔کتابوں کی کتابت اعلیٰ قسم کے عمدہ کاغذ پر کی جاتی تھی۔اس کی دیواریں الا باسٹر (alabaster) کی تھیں۔کا تب اچھے قتسم کے کاغذ پر نفیس کتابت کرتے تھے۔اس کے چیف لائبریرین کا نام تالید تھا جبکہ اس کی معاون لینی نام کی ایک خاتون تھی۔ایک خاتون فاطمہ خود اچھی قلم کار تھی اور عمدہ کتابوں کی تلاش میں لمبے لمبے دشوار سفر کیا کرتی تھی۔شہر میں ایک خاتون عائشہ نام کی تھی جس کا اپنے گھر میں ذاتی کتب خانہ تھا۔اس کو کتابوں کا اس قدر والہانہ شوق تھا کہ عمر بھر اس۔خا کہ ھر ھر اس نے شادی نہیں کی۔الموحد شہزادی جس کا نام الولا دا ( وفات 1072ء) تھا اور جو خلیفہ حمد الثانی استکلفی کی بیٹی تھی وہ نہ صرف اپنی خوبصورتی بلکہ اپنی شاعری اور رعنائی خیال کی وجہ سے بھی لوگوں کے دل موہ لیتی تھی۔قرطبہ میں اس کا دولت کدہ ممتاز شاعروں، عالموں اور دانشوروں کے لیے جمع ہونے کا خاص مقام تھا۔اشبیلیہ کی خاتون صفیہ بھی ایک نامور شاعرہ اور مقررہ تھی جو کتابوں کی نفیس کتابت کرنے میں اپنا جدا گانہ مقام رکھتی تھی۔غرناطہ کی حفصہ (وفات 1184ء) کی شاعری کے بارے میں المقری نے بیان کیا ہے کہ اس کی شاعری گویا بلبلوں کی زبان میں تھی۔[64] قرطبہ میں عوامی کتب خانے بھی تھے۔کتابوں کے خاص بازار تھے جہاں سناروں کی دکانوں سے زیادہ لوگوں کا ہجوم رہتا تھا۔معمولی ملازم، غلام، بلکہ ہیجڑے بھی مطالعے میں منہمک رہتے تھے۔اس کے برعکس یورپ میں روم کے شرفا اور رؤسادستخط کرنے کے بجائے دستاویزوں پر صلیب کا نشان لگا دیتے تھے۔یورپ کے سب سے بڑے کتب خانے کینٹر بری (Canterbury) میں پانچ ہزار کتا ہیں تھیں اور فرانس کے راہب خانے کلونی (Cluny) کے کتب خانے میں صرف 570 کتا بیں تھیں۔یادر ہے کہ یورپ میں قرون وسطی میں صرف پادری اور راہب ہی عالم ہوتے تھے جبکہ اسلامی دنیا میں لکھنا پڑھنا ہر خاص وعام کا اوڑھنا بچھونا ہوتا تھا۔قرطبہ کے متمول لوگوں کے عالی شان بنگلوں میں بھی ذاتی کتب خانے ہوتے تھے۔