مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 10 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 10

7 00 6 2 مسلمانوں میں سائنس کی روایت سائنس کے مختلف شعبوں میں مسلمان حکماء اور اطبا کے کارناموں کے باضابطہ مطالعے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے دور میں علمی سرگرمیوں اور معاشرتی حالات کا بھی جائزہ لیا جائے تا کہ یہ معلوم ہو کہ سائنسی موضوعات پر ان کی کاوشیں کتنی گراں بہا تھیں جن کے ثمرات سے عرب ممالک، یورپ اور بعد میں تمام دنیا بہرہ ور ہوئی۔در حقیقت سائنس میں ان کے ہی کارناموں نے موجودہ سائنس کو بھی بنیاد بخشی ہے اور ان کے فیوض سے ہی سائنس کے دروبام منور ہیں۔(الف) عربی میں یونانی کتب کے تراجم آٹھویں صدی میں یونانی ،لاطینی سنسکرت ، پہلوی اور سریانی زبانوں میں دنیا کے کل علم کا تمام ذخیرہ موجود تھا۔عربی زبان ان علوم سے بے بہرہ تھی۔اس علم کے ذخیرے کو عربی میں منتقل کرنے کی تحریک کا کام آٹھویں صدی میں بغداد کے خلیفہ المنصور کے عہدِ خلافت سے شروع ہوا۔بغداد کے دانشوروں نے ریاضی، ہیت ، طب، فلسفے کی کتابوں کو حاصل کرنے ، ترجمہ کرنے اور کتابت کر کے ان کو پھیلانے کا جو فقید المثال کام شروع کیا وہ اگلے دو سو سال (نویں اور دسویں صدی تک جاری رہا۔ترجمے کی ایسی ہی تحریک یورپ میں بارہویں صدی میں شروع ہوئی جب اسپین کے شہر طلیطلہ (Toledo) میں ترجمہ نگاروں (جیرارڈ آف کر یمونا اور مائیکل اسکاٹ ) نے عربی سے اس تمام سائنسی سرمائے کو یورپ کی زبانوں ( لاطینی، اطالوی، انگریزی، عبرانی اور فرانسیسی) میں منتقل کرنا شروع کر دیا جس سے یورپ میں نشاۃ ثانیہ ظہور پذیر ہوئی۔بغداد نے علمی اور سیاسی دارالخلافہ ہونے کی حیثیت سے اتنی ترقی حاصل کی تھی کہ وہ یونان اور روم کے شہروں کا مقابلہ کرتا تھا۔رفتہ رفتہ بغداد سے یہ علمی ذخیرہ اسلامی اسپین پہنچا جہاں قرطبہ (Cardoba) اور طلیطلہ نے بغداد کو مات کر دیا۔یوروپین محققین اسلامی اسپین کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔جب ان یورپی عالموں نے عربی زبان سیکھی اور مسلمانوں سے روابط قائم ہوئے تو ان کو احساس ہوا کہ عربی میں سائنس کا کتنا عظیم الشان ذخیرہ موجود ہے۔یقینا اگر بغداد کے حکماء نے علم کے اس سرمائے کو محفوظ نہ کیا ہوتا تو یورپ آج بھی اپنے تاریک دور (dark age) کے خواب غفلت میں پڑا ہوتا۔کتابوں کے تراجم کا کام سریانی زبان سے عربی زبان میں شروع ہوا کیونکہ یونانی زبان سے اکثر کتا ہیں سریانی میں ترجمہ ہو چکی تھیں۔سریانی عراق میں اس وقت قومی زبان تھی۔تا ہم اس کے بعد یونانی سے عربی میں براہ راست تراجم کا کام شروع ہوا۔یہ سارے کام نویں اور دسویں صدی میں انجام پائے یہاں تک کہ یونانی زبان میں موجود علم کا تقریباً سارا ذخیرہ عربی میں منتقل ہو گیا۔ہندوستان کی بعض کتابیں بھی عربی میں ترجمہ کی گئیں۔عربی میں ترجمے کی تحریک کا کام دو مسودات سے شروع ہوا جو خلیفہ منصور ( 775-754ء) کے دربار میں ہندوستان سے 773ء میں ایک ماہر فلکیات گنگا لے کر آیا تھا۔ایک مسودہ ریاضی کا تھا اور دوسرا فلکیات کا۔ان مسودات کے تراجم سنسکرت سے عربی میں کیے گئے۔ریاضی کی یہ کتاب ہندوستان کے سائنس داں برہم گپت کی سوریا سدھانتا (625 ) تھی جس کا ترجمہ عربی میں زیج السند ہند الکبیر کے نام سے ابراہیم الفزاری نے کیا تھا۔گنگا کی دو دیگر کتابوں الارکند اور الا جمھر کے بھی عربی میں ترجمے کیے گئے۔ہندوستان سے ہی ریاضی کے ہند سے عربوں میں آئے اور عربوں سے یہ یورپ