مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 11 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 11

9 8 پہنچے۔عربوں نے ان ہندسوں کو ہندی کہا مگر یورپ میں ان کو عربی ہند سے کہا جاتا ہے۔صفر بھی عربوں کے توسط سے یورپ پہنچا۔اسے بھی انہوں نے ہندوستان سے لیا تھا۔صفر کے لفظی معنی خالی کے ہوتے ہیں۔یورپ میں اس وقت ہند سے لاطینی حروف میں لکھے جاتے تھے۔اس لئے ان عربی ہندسوں کے آتے ہی علم ریاضی میں انقلاب آ گیا۔آج کمپیوٹر سائنس میں خیرہ کن ترقی ان ہندی یا عربی ہندسوں ہی کی مرہونِ منت ہے۔بر اس کے علاوہ ادبیات میں خلیفہ منصور کے دور خلافت میں ہندوستانی فلسفی بد پائی کی تصنیف پنچ تنتر کا ترجمہ فارسی میں ہو چکا تھا اور اب اس کا ترجمہ عربی میں ابن المقفع (متوفی 760ء) نے کلیلہ و دمنہ کے نام سے کیا۔یہ کہانیوں کی کتاب ہے جس میں جانور اپنے تجربات بیان کرتے ہیں۔انگریزی میں اس کا ترجمہ بد پائی فیلس (Bidpai Fables) کے عنوان سے کیا گیا۔یہ عربی زبان کا پہلا ادبی شاہکار تھا، یورپ میں اس کا ترجمہ چالیس زبانوں میں کیا گیا [2]۔کتاب الفہر ست جو محمد ابن الحق الندیم ( متوفی 1955ء) نے دسویں صدی عیسوی میں لکھی تھی۔اس کے انگریزی ترجمے کی دوجلدیں کوئیز یو نیورسٹی، کنگسٹن ( Queens University, Kingston) میں موجود ہیں۔اس میں لکھا ہے کہ جن ہندوستانی طبیبوں اور ہئیت دانوں کی تصنیفات کا عربی میں ترجمہ کیا گیا وہ ہیں: بھا گا ہارا، راجہ ،منکہ، دا ہر، اندو، را نا کالا، آری کالا، گنگا منجیل ، جدار۔ان اطبا میں منکہ خاص طور پر ہارون رشید کے علاج کے لئے آیا تھا۔وہ فارسی زبان بھی جانتا تھا اس لئے طبابت کے ساتھ اس نے سنسکرت کی کتابوں کے فارسی اور عربی میں عمدہ تراجم کیے۔چنانچہ شاناق نے زہروں پر جو کتاب لکھی تھی اس کا عربی میں ترجمہ منکہ نے ہی کیا تھا۔فارسی کی ادبی کتاب ہزار افسانہ کا ترجمہ نویں صدی عیسوی میں الف لیلتہ ویلی کے نام سے کیا گیا۔انگریزی میں اس کا ترجمہ عربیئن نائٹس (Arabian Nights) کے نام سے ہوا اور اس کتاب کو بہت پسند کیا گیا کیونکہ اس وقت تک یورپ میں کہانیوں کی یا ادب کی کوئی کتاب موجود نہیں تھی۔شطرنج بھی ہندوستان سے ایران کے راستے عربوں میں پہنچا اور وہاں سے یورپ پہنچا۔یورپ میں شطرنج کا ذکر سب سے پہلی بارشہنشاہ الفانسو، اسپین ( King Alfonso of Castle, Spain) (1252-1282ء) کی ایک کتاب میں ملتا ہے۔شطرنج میں جب بادشاہ قابو میں آجائے تو اسے فارسی میں شر مات کہتے ہیں۔انگریزی کا لفظ چیک میٹ (checkmate) اسی سے ماخوذ ہے۔ذی مرتبت خلیفہ منصور نے ایران کے شہر جند نیشاپور کے ہسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر ابن بختیشوع کو اپنے علاج کے لیے بلوایا۔جلد ہی یہ اس کا درباری طبیب بن گیا اور اس کی چھ نسلوں نے شاہی طبیبوں کے فرائض انجام دیے۔ابن بختیشوع کا ایک پوتا جبریل بختیشوع ہارون رشید (809-786ء) کا درباری طبیب تھا۔بغداد میں جند یشا پور کی طرز کا سب سے پہلا ہسپتال جبریل نے ہی تعمیر کیا تھا۔المصور ہسپتال بغداد میں ابھی تک موجود ہے۔بطلیموس کی کتاب امجسطی کا پہلا عربی ترجمہ یحیی ابن خالد برکی نے کیا [3]۔ایک اور ترجمه حجاج ابن مطار نے 827ء میں کیا۔عربی میں اس کے نام کے ساتھ ال لگنے سے اس کا نام کتاب اجسطی رکھا گیا جس کے معنی ہیں عظیم کتاب۔انسانیت ان مسلمان مترجمین کی ہمیشہ ممنون و احسان مند رہے گی جنہوں نے اس کا ترجمہ عربی میں کر کے اس انمول خزانے کو محفوظ کر لیا ور نہ اصل یونانی کتاب کب کی نا پید ہو چکی ہے۔جیومیٹری کا ماہر ابن مطار، پہلا مسلمان تھا جس نے اسکندریہ کے عالم اقلیدس کی کتاب عناصر (Elements) کا ترجمہ کیا جس سے عربوں میں جیومیٹری کے علم کا آغاز ہوا۔مقدمات اقلیدس کی زمانہ حال تک زبر دست افادیت کے پیش نظر 1893ء میں اس کا ڈینش (Danish) زبان میں ترجمہ کیا گیا تھا۔