مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 9 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 9

5 عنوان المسلی رکھ دیا جو بھی تک مروج ہے۔امجسطی علم بعیت کی بنیادی کتاب ہے جس میں اسٹار کیٹلاگ (star catalogue کے علاوہ آلات بیت بھی دیے گئے ہیں۔بطلیموس کی دوسری اہم کتاب کا نام جیوگرافیکل آؤٹ لائن (Geographical Outline) ہے۔دونوں کتابوں کے عربی میں کئی بار تراجم کیے گئے۔اس کتاب میں عہد قدیم کے ایک ماہر طب جالینوس (Galen 130-200 AD) کا نام بار بار آئے گا۔اس لیے اس کا تعارف بھی یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے۔جالینوس یونانی فلاسفہ (philosophers) اور اطبا ( physicians) میں بہت ممتاز ہے۔اس کا نام طب میں معتبر مانا جاتا ہے۔اس نے چارسو سے زیادہ کتا ہیں قلم بند کیں جن میں سے 140 یونانی زبان میں محفوظ ہیں۔اصل زبان میں تو اس کی کتا بیں امتداد زمانہ کے ہاتھوں خرد برد ہو گئیں مگر ان کے تراجم عربی اور لاطینی میں دستیاب ہیں۔اس کی متعدد تصنیفات طب پر ہیں۔نویں صدی میں حنین ابن اسحق نے بغداد میں اس کی کتابوں کے عربی اور سریانی میں تراجم کیے۔مسلمانوں نے علم طب انہی کتابوں سے سیکھا۔گیارہویں صدی میں اسلامی اسپین میں عربی سے ان کتابوں کے تراجم لاطینی میں کیے گئے اور یورپ میں نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوا۔جالینوس کا علمی اثر یورپ پر دیر پا تھا۔جب بطحا کی سنگلاخ پہاڑیوں سے ساتویں صدی میں اسلام کا آفتاب طلوع ہوا تو اس وقت بازنطینی حکومت یعنی ایسٹرن رومن ایمپائر (Eastem Roman Empire)،جس کا دارالحکومت استنبول تھا، اپنے عروج پر تھی۔افسوس کہ اس دور حکومت میں بادشاہوں کو علم سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔چنانچہ ایک بادشاہ تھیوڈو سیکس دوئم (Theodosius-ll) کے حکم پر اسکندریہ کی شہرہ آفاق لائبریری کو نذر آتش کر دیا گیا۔پھر اس کے بعد ایک اور بادشاہ زینو (Zeno) کے حکم پر رہا یعنی اڑیسہ (Edessa) کے شہر میں موجود اسکول کو بند کروادیا گیا جو دوسری صدی سے سریانی زبان اور یونانی علوم کی تعلیم کا مرکز چلا آرہا تھا۔ایک اور بادشاہ جسٹن (Justin) نے ایتھنز (Athens) کے شہر میں موجود افلاطون (Plato) کی اکیڈمی اور اسکندریہ کی اکیڈمی کے دروازوں پر قفل لگوا دیے۔اڈیسہ اور نا صبیہ ( Nasibia) کے شہروں کے نسطوری (Nastorian) راہب اور اسکندریہ کے فلسفی جب بازنطینی ارباب اقتدار کے اذیت ناک سلوک سے تنگ آگئے تو وہ ایران ہجرت کر گئے جہاں اس وقت ساسانی بادشاہ بر سر اقتدار تھے۔یہاں آکر انہوں نے اپنی مذہبی اور یونانی عالموں کی کتابوں کے ترجمے کرنے شروع کر دیے۔چنانچہ جب مسلمانوں نے شام اور ایران کو فتح کیا تو ان کو یہاں یونانی علمی ورثے کے بیش قیمت خزینے ہاتھ آئے۔عربوں نے ان مفتوحہ علاقوں میں جو علمی خزانے پائے ، انہیں عربی میں منتقل کرنا شروع کیا۔یہ سلسلہ ایک سوسال (750-850ء) تک جاری رہا اور اس کے بعد ان کتب کے تراجم شروع کیے جن کے تراجم ابھی تک سریانی اور کلدانی زبانوں میں نہیں ہوئے تھے۔یونان کے علاوہ مسلمانوں نے ہندوستانی ، چینی اور ایرانی علوم سے بھی استفادہ کیا۔یونانی اور مسلم سائنس دانوں میں نمایاں فرق یہ تھا کہ اہل یونان کے علوم نظریاتی تھے جبکہ مسلم سائنس دانوں نے اطلاقی علوم کی بنیاد مشاہدات اور تجربات پر رکھی۔اگلے پانچ سو سال تک اسلامی دنیا علم و فن اور سائنس و ٹیکنالوجی کا مرکز بنی رہی جس کا دارالخلافہ بغداد تھا۔اس عرصے میں کوئی علم ایسا نہ تھا جس کے فروغ میں مسلمانوں نے حصہ نہ ادا کیا ہو۔کوئی ایجاد یا دریافت ایسی نہ تھی جس کا سہرا مسلمانوں کے سر نہ رہا ہو۔پوری دنیا کے عالم اور سائنس داں ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے لگے۔اس امر کا ذکر مشہور مصنف میکس مائر ہاف (Max Myerhof) نے یوں کیا ہے: ڈوبتے ہوئے یونانی سورج (علم) کی روشنی کو لے کر اسلامی سائنس کا چاند اب چمکنے لگا اور اس نے یورپ کے عہد وسطی کی تاریک ترین رات کو روشن کیا۔یہ چاند بعد میں یورپ کے نشاۃ ثانیہ کا دن طلوع ہونے کے بعد ماند پڑ گیا۔[1]