حضرت سودہ ؓ بنت زمعہ — Page 6
اُم المؤمنین حضرت سودہ بنت زمعہ 6 الله حضرت سودہا نے بھی حضرت رقیہ کو گلے لگایا اور پیار کیا۔(9) نبوت کے تیرھویں سال نبی کریم ﷺ نے الہی حکم سے مدینہ ہجرت فرمائی۔ہجرت فرمانے کے کچھ عرصہ بعد حضرت زید بن حارثہ اور حضرت ابو رافع کو دو اونٹ اور پانچ سو درہم دے کر مکہ روانہ کیا تا کہ آپ کے اہل خانہ کو لے آئیں۔چنانچہ حضرت سودہ، حضرت ام کلثوم، حضرت فاطمہ ، حضرت اُم ایمن اور حضرت اسامہ بن زیدان کے ساتھ مکہ سے مدینہ آ گئے۔یہ سب لوگ حضرت حارث بن نعمان انصاری کے گھر ٹھہرے۔حضرت عائشہ صدیقہؓ کا نکاح حضور ﷺ سے مکہ میں ہو چکا تھا۔ہجرت مدینہ کے بعد رخصتی ہوئی تو حضرت عائشہ بھی اس گھر میں تشریف فرما ہو ئیں۔حضرت سودہ خوش مزاج اور زندہ دل خاتون تھیں اور آپ میں حسن مزاح بھی پائی جاتی تھی۔کبھی کبھی اس انداز میں چلتی تھیں کہ حضور عے بھی تبسم فرماتے تھے۔ایک روز حضرت سودہ نے حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ علہ اکل رات میں نے آپ ﷺ کے پیچھے نفلی نماز پڑھی تھی۔آپ یہ دیر تک رکوع میں رہے۔مجھے رکوع میں جھکے ہوئے یوں محسوس ہوا کہ اب ناک سے نکسیر پھوٹ نکلے گی۔میں نے