حضرت سودہ ؓ بنت زمعہ — Page 5
اُم المؤمنین حضرت سودہ بنت زمعہ مراتب طے ہو گئے تو آنحضرت علیہ حضرت سودہ کے گھر تشریف لے گئے۔حضرت سودہ کے والد نے ہی نکاح پڑھایا اور چار سو درہم مہر مقرر ہوا۔اس طرح یہ نکاح رمضان 10 نبوی میں ہوا۔نکاح کے وقت نبی کریم علی کی عمر مبارک پچاس سال تھی اور حضرت سودہ کی عمر بھی پچاس سال ہی تھی۔حضور اکرم ﷺ سے حضرت سودہ کے نکاح کے وقت حضرت سکر ان کے دو بھائی حضرت سلیط بن عمر و اور حضرت حاطب بن عمر و شریک ہوئے۔جبکہ حضرت سودہ کے بھائی ، عبد اللہ بن زمعہ نکاح کے وقت گھر پر نہیں تھے۔وہ اس وقت تک مسلمان بھی نہیں ہوئے تھے۔چنانچہ جب واپس گھر آئے اور اس مبارک نکاح کی خبر ملی تو انہوں نے اسے افسوس ناک واقعہ سمجھ کر اپنے سر پر خاک ڈال لی کہ کیا غضب ہو گیا۔اسلام لانے کے بعد وہ ہمیشہ اپنی اس حماقت و نادانی پر افسوس کرتے تھے۔سردار انبیاء ﷺ نے حضرت سودہ کو اسی گھر میں ٹھہرایا جو صلى الله صلى الله حضرت خدیجہ الکبری کی ملکیت تھا۔اس گھر میں حضور اکرم ﷺے اور الله حضرت علی کے علاوہ آپ ﷺ کی صاحبزادیاں حضرت ام کلثوم اور صلى الله حضرت فاطمہ بھی رہتیں تھیں جب کہ حضور ﷺ کی بڑی بیٹی حضرت رقیہ حبشہ میں تھیں۔جب وہ والدہ کے انتقال کے بعد مکہ واپس آئیں تو جہاں بہنوں نے خوشی اور غمی کے ملے جلے جذبات سے استقبال کیا وہاں