حضرت سودہ ؓ بنت زمعہ — Page 7
اُم المؤمنین حضرت سودہ بنت زمعہ 7 اس اندیشے سے کہ کہیں خون کے قطرے نیچے گرنے نہ شروع ہو جائیں، اپنی ناک کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔آپ سے یہ بات سن کر بے ساختہ ہنس پڑے۔حضرت سودہ نے اپنے پہلے خاوند سکران کے ساتھ حبشہ ہجرت کی صلى الله تھی جب رسول کریم ﷺ ان کے پاس آکر بیٹھتے تو کبھی کبھی وہ حبشہ میں گزرے ہوئے واقعات سناتیں۔آپ یہ بڑی دلچسپی لیتے خصوصاً حضرت رقیہ اور داماد حضرت عثمان کے ذکر کو شوق سے سنتے جو ان دنوں حبشہ میں مہاجرین کی زندگی گزار رہے تھے۔10 ہجری میں جب آنحضرت ﷺ نے حج کیا تو حضرت سودہ بھی ساتھ تھیں۔چونکہ وہ دراز قامت تھیں اور بھاری جسم کی تھیں اس وجہ سے تیز چل نہیں سکتی تھیں۔اس لئے آنحضرت ﷺ نے انہیں اجازت دی کہ لوگوں کے مزدلفہ روانہ ہونے سے پہلے ہی ان کو چلا جانا چاہیے کیونکہ بھیٹر میں چلنے سے ان کو تکلیف ہوگی۔(10) حضرت عائشہ صدیقہ اس دن کو یاد کر کے ہمیشہ فرمایا کرتی تھیں کہ در کاش میں بھی آنحضرت علی سے اجازت لے کر لوگوں کی بھیڑ ہونے سے پہلے چلی جاتی اور فریضہ حج ادا کر لیتی کیونکہ بعد میں لوگوں کی بھیڑ کی وجہ سے چلنے پھرنے میں بہت مشکل پیش آئی۔“