حضرت سودہ ؓ بنت زمعہ — Page 2
أم المؤمنین حضرت سودہ بنت زمعہ 2 حضرت سودہ کا پہلا نکاح اپنے چچا زاد سکران بن عمرو سے ہوا تھا۔(3) حبشہ کی پہلی ہجرت کے وقت تک حضرت سودہ اور ان کے شوہر مکہ ہی میں مقیم تھے لیکن جب مشرکین کے ظلم و ستم کی کوئی انتہا نہ رہی اور مہاجرین کی ایک بڑی جماعت ہجرت کے لئے آمادہ ہوئی تو اس میں حضرت سودہ اور ان کے شوہر بھی شامل ہو گئے۔(4) اس طرح دوسری مرتبہ حبشہ ہجرت کرنے والے 86 مردوں اور 17 عورتوں میں یہ دونوں میاں بیوی بھی شامل تھے۔(5) مسلمانوں کے قافلے آہستہ آہستہ مکہ سے ہجرت کر رہے تھے۔یہ مخالفت کا زمانہ تھا جب مسلمان چھپ کر ، اونٹوں پر سوار ہوکر صحرا کی تپیتی ریت پر سفر کیا کرتے تھے۔بعض اوقات گرمی کی شدت کی وجہ سے صرف رات ہی میں سفر کر ناممکن ہوتا تھا۔حبشہ پہنچ کر مسلمانوں کو سکون نصیب ہوا۔حبشہ کا بادشاہ نجاشی گو عیسائی تھا، مگر نیک اور خدا ترس تھا۔نجاشی بادشاہ مسلمانوں کو اسلام پھیلانے سے روکتا نہیں تھا۔اس لئے مسلمانوں کو حبشہ میں امن ملا۔کفار مکہ سے یہ برداشت نہ ہوا اور انہوں نے حبشہ میں یہ اطلاعات بھجوانی شروع کر دیں کہ اہل مکہ نے مسلمانوں کے ساتھ محبت اور بھائی چارے