چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 288 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 288

288 مسیح موعود پر ایمان لانے کی ضرورت؟ سے تشبیہ دوں اُنکی نسبت یہی تمثیل ٹھیک آتی ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے وعدہ کے موافق ایک شہر میں اپنی طرف سے ایک حاکم مقرر کر کے بھیجا تا وہ دیکھے کہ در حقیقت مطیع کون ہے اور نافرمان کون اور تا اُن تمام جھگڑوں کا تصفیہ بھی ہو جائے جو اُن میں واقع ہو رہے ہیں چنانچہ وہ حاکم عین اُس وقت میں جبکہ اس کے آنے کی ضرورت تھی آیا اور اُس نے اپنے آقائے نامدار کا پیغام پہنچادیا اور سب لوگوں کو راہِ راست کی طرف بلا یا اور اپنا حکم ہونا اُن پر ظاہر کر دیا۔لیکن وہ اس کے ملازم سرکاری ہونے کی نسبت شک میں پڑ گئے تب اُس نے ایسے نشان دکھلائے جو ملازموں سے ہی خاص ہوتے ہیں مگر انہوں نے نہ مانا اور اُسے قبول نہ کیا اور اُس کو کراہت کی نظر سے دیکھا اور اپنے تئیں بڑا سمجھا اور اس کا حکم ہونا اپنے لئے قبول نہ کیا بلکہ اس کو پکڑ کر بے عزت کیا اور اُس کے منہ پر تھوکا اور اس کے مارنے کے لئے دوڑے اور بہت سی تحقیر و تذلیل کی اور بہت سی سخت زبانی کے ساتھ اُس کو جھٹلایا تب وہ اُن کے ہاتھ سے وہ تمام آزار اُٹھا کر جو اس کے حق میں مقدر تھے اپنے بادشاہ کی طرف واپس چلا گیا اور وہ لوگ جنہوں نے اُس کا ایسا بُرا حال کیا کسی اور حاکم کے آنے کے منتظر بیٹھے رہے اور جہالت کی راہ سے ایسے خیال باطل پر جمے رہے کہ یہ تو حاکم نہیں تھا بلکہ وہ اور شخص ہے جو آئے گا جس کی انتظاری ہمیں کرنی چاہئے سو وہ سارا دن اس شخص کی انتظار کئے گئے اور اُٹھ اُٹھ کر دیکھتے رہے کہ کب آتا ہے اور اس وعدہ کا با ہم ذکر کرتے رہے جو بادشاہ کی طرف سے تھا یہاں تک کہ انتظار کرتے کرتے سورج غروب ہونے لگا اور کوئی نہ آیا آخر شام کے قریب بہت سے پولیس کے سپاہی آئے جن کے ساتھ بہت سی ہتھکڑیاں بھی تھیں سو انہوں نے آتے ہی اُن شریروں کے شہر کو پھونک دیا اور پھر سب کو پکڑ کر ایک ایک کو ہتھکڑی لگا دی اور عدالت شاہی کی طرف بجرم عدول حکمی اور مقابلہ ملازم سرکاری چالان کر دیا