چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 287
287 مسیح موعود پر ایمان لانے کی ضرورت؟ ،ان کی عزتوں کو خاک میں ملادیا اور ان کی سلطنتوں کو پارا پارا کر دیا۔ان کی عظمتوں کے پرزے اڑا دیئے گئے اور ان کے تکبر ٹوٹ کر اس طرح ریزہ ریزہ ہو گئے جیسے کانچ کا برتن کوئی غضبناک ہاتھ کسی چٹان پر دے مارے۔وہی زمینیں جو کبھی ان کے ہیبت و جلال سے کانپا کرتی تھیں ان کے بد انجام کے نظارے سے لرز نے لگیں۔۔۔۔ان کی جمعیتیں کام نہ آئیں اور ان کی کثرت نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔وہ ہلاک کی گئیں مگر آسمان نے ان کے حال پر کوئی آنسو نہ بہایا۔وہ برباد کی گئیں مگر زمین نے ان کی بربادی پر کوئی تاسف نہ کیا۔ہاں زمین و آسمان نے بیک آواز ان پر لعنت کی اور وقت نے لعنت کی اس پھٹکار کو اس طرح محفوظ کر لیا کہ قیامت تک اس کی گونج سنائی دیتی رہے گی۔“ (خطابات طاہر۔تقاریر جلسہ سالا نه قبل از خلافت صفحه 422 طبع اول 2006) حضرت بانی جماعت احمدیہ نے امت میں اپنے زمانے کے موعود مامور اور حکم چودھویں صدی کے منکروں کا انجام کیسی پر حکمت اور لطیف و بلیغ تمثیل میں بڑی تحدی سے بیان فرمایا ہے کہ ہر تکذیب کرنے والا شخص اپنی زبان اور قلم ہاتھ کی شامت سے پکڑا جائے گا۔آپ فرماتے ہیں:۔”ہمارا گر وہ ایک سعید گروہ ہے جس نے اپنے وقت پر اس بندہ کو قبول کر لیا ہے جو آسمان اور زمین اور کے خدا نے بھیجا ہے اور ان کے دلوں نے قبول کرنے میں کچھ تنگی نہیں کی کیونکہ وہ سعید تھے اور خدائے تعالیٰ نے اپنے لئے انہیں چن لیا تھا۔عنایت حق نے انہیں قوت دی اور دوسروں کو نہیں دی اور ان کا سینہ کھول دیا اور دوسروں کا نہیں کھولا۔سوجنہوں نے لے لیا انہیں اور بھی دیا جائے گا اور ان کی بڑھتی ہوگی مگر جنہوں نے نہیں لیا ان سے وہ بھی لے لیا جائے گا جو ان کے پاس پہلے تھا۔بہت سے راستبازوں نے آرزو کی کہ اس زمانہ کو دیکھیں مگر دیکھ نہ سکے مگر افسوس کہ ان لوگوں نے دیکھا مگر قبول نہ کیا ان کی حالت کو میں کس قوم کی حالت