چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 289
289 مسیح موعود پر ایمان لانے کی ضرورت؟ جہاں سے انہیں وہ سزائیں مل گئیں جن کے وہ سزاوار تھے۔سو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہی حال اس زمانہ کے جفا کارمنکروں کا ہوگا ہریک شخص اپنی زبان اور قلم اور ہاتھ کی شامت سے پکڑا جائے گا جس کے کان سننے کے ہوں سُنے۔“ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 191-190 ایڈیشن 2008) نشاں کو دیکھ کر انکار کب تک پیش جائے گا ارے اک اور جھوٹوں پر قیامت آنے والی ہے ترے مکروں سے اے جاہل! میرا نقصاں نہیں ہرگز آگ میں پڑ کر سلامت آنے والی ہے که یہ جاں بہت بڑھ بڑھ کے باتیں کی ہیں تُو نے اور چھپایا حق یاد رکھ اک دن ندامت آنے والی ہے خدا رسوا کرے گا تم کو میں اعزاز پاؤں گا سنو اے منکرو ! اب کرامت آنے والی ہے خدا ظاہر کرے گا اک نشاں پُر رُعب و پُر ہیبت دلوں میں اس نشاں سے استقامت آنے والی ہے خدا کے پاک بندے دوسروں پر ہوتے ہیں غالب مری خاطر خدا یہ علامت آنے والی ہے ނ تتمہ حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 595 ایڈیشن 2008) آخر میں چودہویں صدی کے امام مسیح و مہدی کے پانچویں خلیفہ حضرت مرزا مسرور احمد صاحب خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ان با برکت کلمات پر اختتام کرتے ہیں:۔پہلے یہ کہا کرتے تھے کہ گو مسیح و مہدی نے چودہویں صدی میں آنا ہے لیکن ابھی نہیں آیا اور ابھی چودہویں صدی ختم نہیں ہوئی ، بڑا عرصہ پڑا ہے اس کے ختم