چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 227
227 علامات مسیح و مہدی اور چودھویں صدی سورج ڈوبنے کے بعد تھوڑی دیر رہتی ہے کہ ایسے ہی اسلام کے سورج ڈوبنے کا زمانہ بھی شفق کی طرح مختصر اور چھوٹا ہوگا اور اسلام ایک تاریک رات کی لپیٹ میں آنے کے بعد اسی قانون طبعی اور سنت الہی کے مطابق پھر سورج کے طلوع ہونے کا زمانہ بھی دیکھے گا۔پھر فرمایا: وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ (الانشقاق (19) ہم چاند کو بھی جب وہ تیرہویں کا ہو جائے شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں یعنی اسلام کے سورج کا یہ آغاز تیرہویں صدی ہجری سے ہو جائے گا اور جس طرح چودھویں، پندرھویں، سولہویں راتوں کا چاند تقریباً مکمل ہوتا ہے اس طرح ان صدیوں میں اسلام کی ترقی مکمل ہوگی۔یہ مضمون بیان کر کے پھر فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ایسے اور اتنے نشان دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے اور یہ قرآنی آیات و نشان پا کر بھی اطاعت نہیں کرتے بلکہ تکذیب پر کمر بستہ رہتے ہیں جیسا کہ فی زمانہ ہورہا ہے۔سورۃ ہود میں آخری زمانہ کے لئے فکر انگیز توجہ ایک روایت کے مطابق آنحضرت ﷺ نے سورۃ تکویر کے ساتھ بعض اور سورتوں هود،واقعه مرسلات اور نباء کا ذکر کر کے فرمایا کہ ان سورتوں نے مجھے بوڑھا کر دیا۔( ترمذی ابواب تفسیر القرآن باب وَمِنْ سُورَةِ الْوَاقِعَة ) اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ ان سورتوں میں آخری زمانہ مسیح موعود کی علامات اور نشانات کے ساتھ ایک موعود مصلح کی تکذیب کے بعد گزشتہ قوموں کی طرح ہلاکت کا اشارہ ہے۔جو کوئی خوش ہونے کی بات نہیں اس لیے رسول کریم ﷺ کو بھی غم اور فکر دامن گیر ہوا۔چنانچہ سورۃ ہود میں قوم نوح، قوم ہوں، قوم صالح، قوم ابراہیم ولوط اور قوم شعیب، مدین اور قوم موسیٰ کے اپنے نبیوں کے انکار کے بعد ہلاکت کا ذکر ہے۔اور موعود آخر الزمان کی صداقت کے دلائل میں دلیل کے طور پر سورۃ ہود آیت 18 میں (بمطابق استثناء باب 18 آیت 18 ) آپ کے حق میں حضرت موسی کی پیشگوئی اور وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْہ میں رسول اللہ ﷺ کی پیروی میں آپ کے بعد آنیوالے تائیدی