چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 228
228 علامات مسیح و مہدی اور چودھویں صدی گواہ مسیح و مہدی کی پیشگوئی کر کے فرمایا کہ جو احزاب ( یعنی مسلمان فرقے ) اس موعود کا انکار کریں گے ان کا ٹھکانہ آگ ہوگا جیسا کہ اس کی تشریح میں خود رسول اللہ ﷺ نے 73 فرقوں کی نشاندہی کر کے كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةَ وَاحِدَة ( ترمذی ابواب الايمان باب مَا جَاءَ فِيْمَنُ يَمُوتُ وَهُوَ يَشْهَدُ أَن لَّا إِلهُ إِلَّا الله) کی وضاحت فرمائی۔اور سورت کی آخری آیات میں فرمایا کہ یہ باتیں مومنوں کے لیے تو نصیحت ہوں گی مگر منکروں کو انذار واختباہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ ( ہود 123) اور انتظار کرو ہم بھی یقیناً انتظار کرنے والے ہیں۔کہ کہیں تمہارا بھی وہ انجام نہ ہو جو پہلی قوموں کا ہوا۔اسی طرح سورۃ واقعہ کی مکی سورت میں رسول اللہ علیہ کے ذریعہ غلبہ اسلام کے عظیم واقعہ کا ذکر کر کے بتایا کہ آپ کے صحابہ کی طرح قربانی کر نیوالی ایک دوسری جماعت وَثُلَّةٌ مِنَ الآخِرِينَ (الواقعۃ 41) ہوگی۔اور ان جماعتوں کی اس دنیا میں کامیابیاں آخرت کے ثبوت کے لیے گواہ ہوں گی اور انکار کرنے والے اصحاب الشمال کے بارہ میں جہنم کا فیصلہ ہوگا۔اب ظاہر ہے یہ بات بھی رحمت للعالمین کے لیے دکھ کا موجب تھی کہ آپ کی امت کا ایک گروہ بوجہ انکار عذاب کا شکار ہوگا اور یہی غم آپ کے بڑھاپے کا موجب ہوا۔سورۃ المرسلات میں آخری زمانہ کے مامور کا ذکر پھر سورۃ مرسلات میں بھی بعض تو وہی نشان دہرائے ہیں جو سورۃ تکویر میں زمانہ مسیح موعود میں بطور پیشگوئی بیان ہوئے تھے۔مثلاً فَإِذَا النُّجُومُ طُمِسَت (المرسلات 9) جب ستارے ماند پڑ جائیں گے یعنی علماء میں بگاڑ پیدا ہو جائے گا۔وَإِذَا السَّمَاءُ فُرِجَت (المرسلات (10) اور آسمان میں شگاف ہو جائیں گے۔یعنی الہام کا سلسلہ پھر شروع ہو گا کہ خدا کے مسیح اور مہدی کا ظہور ہوگا۔وَإِذَا الْجِبَالُ نُسِفَت ( المرسلات (11) یعنی اس زمانہ میں دنیا کے بادشاہ گرائے جائیں گے اور قوموں میں عروج وزوال کی علامات شروع ہوں گی۔