سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 170
تھی۔مغرب کی ادبی دنیا سے اس کو بہت حمایت ملی جس کیلئے وہ آزادی تقریر اور آزادی اظہار کی علامت بن چکا تھا۔روپوشی کے عرصہ میں اس کو مزید وقت مل گیا کہ مزید کتابیں تصنیف کر سکے جس کیلئے اس کو مدد مانگنے سے پہلے ہی مہیا تھی۔جلاوطنی میں جانے کے بعد اس کی پہلی کتاب کا نام Haroun and the sea of stories ہارون اینڈ دی سی آف سٹوریز) تھا جو 1990ء میں منظر عام پر آئی تھی۔ہارون اینڈ دی سی آف سٹوریز Haroun and the sea of stories اس کے متعلق خیال یہی کیا جاتا ہے کہ یہ کتاب بچوں کیلئے ہے کیونکہ یہ لائبریری کے اُس حصہ کیلئے مخصوص تھی۔کتاب کے پبلشرز ایک بار پھر پینگوئین والے تھے۔مجھے یقین ہے کہ انہوں نے رشدی پر یہ شرط ضرور عائد کر دی ہوگی کہ وہ ایک اور سانحہ کیلئے تیار نہیں ہیں جو رشدی کے گذشتہ ناول کی اشاعت کے بعد وقوع پذیر ہوا تھا۔مزید یہ کہ وہ یعنی رشدی احتیاط برتے اور کم از کم وقتی طور پر انگلی کتاب اتنی اشتعال انگیز نہ لکھے۔سیه ناول اتنا سود مند ثابت نہ ہوا جس کا سبب اقتصادی وجہ کے علاوہ یہ تھا کہ یہ افری ورلڈ کے ادیبوں کیلئے ایک یاد دہانی اور اپیل کے طور پر تھا کہ وہ رشدی کو انصاف ملنے کی مہم کو بدستور جاری رکھیں۔عادت سے مجبور رشدی ایک اور جھوٹی بڑک مارتا ہے جب وہ کہتا ہے کہ اسلامی قانون آزادی فکر اور فرد کی آزادی کو محدود کرتا ہے۔وہ اپنے روایتی طرز تحریر کواستعمال میں لاتے ہوئے افسانوی اصطلاحوں میں اپنا اصل مدعا چھپانے کی کوشش کرتا ہے لیکن ان میں مخفی اشارے بڑی آسانی سے سمجھ آ جاتے ہیں۔مثلاً یہ کہنے کی کوشش میں کہ مسلمان اپنے حقیقی خیالات اور دلی احساسات بیان کرنے میں آزاد نہیں ہیں اور یہ کہ وہ غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں اسلامی دنیا کی اس حالت کو بیان کرنے کیلئے وہ Chup city' ( خموش شہر ) کی ہندی اصطلاح استعمال کرتا ہے اور اس کے باسیوں ( یعنی مسلمانوں) کیلئے بے زبان' کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔در اصل رشدی جس دنیا سے تعلق رکھتا ہے وہ گپ سٹی کے سوا کوئی اور ہرگز نہیں جہاں 170