سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 169 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 169

ایک دفعہ اس نے اپنے دشمنوں کے ساتھ مصالحت کر نیکی کوشش کی۔1990ء میں کرسمس کے موقعہ پر اس نے اسلام قبول کر لیا۔یہ ایک ایسی چال تھی جس کو وہ اب "میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی " قرار دیتا ہے۔اس کی پرورش ایک آزاد گھرانے میں ہوئی۔نوجوانی کی عمر میں اس نے اپنے دین کو ترک کر دیا اور وہ اس دین کے ساتھ ایسا ثقافتی تعلق رکھتا ہے جو اگرچہ روحانی نہیں ہے۔اُس وقت میں The Stanic Verses کا دفاع ایسے شخص کی کتاب کے طور پر کر رہی تھی جس کو واقعی اسلام کا گہرا علم تھا۔لیکن یہ غلط بیانی تھی میں خدا پر ایمان نہیں رکھتی اس لئے مجھے یہ کہنا ہی نہیں چاہئے تھا کہ ایمان رکھتی ہوں"۔اس نے اپنی نجات کی امیدانہی سازشیوں سے وابستہ کی جو اس کو اس گرداب میں دھکیلنے کے ذمہ دار تھے جس میں اب وہ بری طرح پھنسا ہوا تھا۔اس کے ساتھ وہ اپنی کتاب کے دفاع کی طرف بھی رجوع کر رہا تھا: سٹینک ورسز ایک سنجیدہ ناول ہے۔ایک اخلاقی ناول یہ نہ تو غلیظ نہ ہی بے عزت کر نیوالا اور نہ ہی مغلظات سے بھر پور ی تورک آف آرٹ (مصوری کی تخلیق ) ہے"۔میں پوچھتا ہوں کہ ایک تخیلاتی ناول کو سنجیدہ اور اخلاقی کیسے کہا جا سکتا ہے؟ اپنی تقریر میں اس نے ایک اور بیان دیا جو اپنے تابوت میں کیل ٹھونکنے کے مترادف ہے۔آزادی تقریر اور آزادی اظہار کا ذکر کرتے ہوئے وہ اپنا موازنہ اسلامی ممالک کے دوسرے ادیبوں سے کرتا ہے: ایک ممتاز سعودی ناول نگار سے اس کی شہریت چھین لی گئی اس کا کیا جرم تھا؟ وہ اسلام کا مخالف تھا۔ایک مصری ناول نگار اس کے پبلشر اور پر نٹر کو آٹھ سال کیلئے قید کر دیا گیا۔ان پر کیا الزام عائد کیا گیا؟ ایک بار پھر ہتک خدا اور رسول۔یہ لوگ بھی اسلام کے مخالف تھے"۔ان مسلمان ادیبوں کے ساتھ اپنا موازنہ کر کے وہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ وہ ابھی انہی کی طرح مصیبت میں پھنسا ہوا ہے۔انجانے میں اس نے اپنے آپ پر اسلام کا مخالف ہونے کا الزام عائد کر لیا جس کی وہ شروع ہی سے تردید کرتا آیا تھا۔روپوشی میں جو وقت اس نے گزارا وہ اس کوشش میں لگا رہا کہ وہ پوری دنیا سے حمایت حاصل کرے تا بگڑتی ہوئی صورت حال کو بے اثر کر دے جو قابل استہزاء اور خطر ناک ہونے والی 169)