سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 171 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 171

،شپ اور حماقت کا دور دورہ ہے۔( رشدی کی ذرہ نوازی کہ اس نے ہندی الفاظ کے معانی بچوں کیلئے لکھی کتاب کے آخر پر دیے ہیں)۔مزید برآں مجھے کامل یقین ہے کہ جب رشدی ناول کے مرکزی کردار راشد خلیفہ کے بارہ میں کچھ کہتا ہے تو وہ دراصل اپنے بارہ میں کہہ رہا ہوتا ہے جس کو لینڈ آف گپ کا سب سے بڑا اعزاز یعنی the Order of the Open Mouth اس کی غیر معمولی خدمات کے عوض میں دیا گیا"۔(صفحہ 192) کتاب کے بارھویں باب میں جس کا عنوان ہے ?Was It the Walrus رشدی آزادی تقریر کے حق کو موضوع سخن بنانے کیلئے ایک جعلی مقدمہ کا ذکر کر کے بڑی حسرت کیساتھ اپنی جد و جہد کی کامیابی کا ذکر کرتا ہے۔اس نے اپنے لئے اور اپنے ساتھیوں کیلئے خاتمہ بالخیر کی امیدوں اور آرزوؤں کا اظہار بھی دوٹوک الفاظ میں کیا ہے۔وہ لکھتا ہے : " تم نے کہا تھا کہ یہ بہت بڑی خواہش ہو سکتی ہے اور یہ ہے بھی۔میں ایک افسردہ شہر سے آیا ہوں جو اتنا افسردہ ہے کہ اپنا نام بھی بھول گیا ہے۔میری خواہش ہے کہ تم اس کو مسرتوں والا انجام مہیا کرو نہ صرف میری جدوجہد کیلئے بلکہ سارے افسردہ شہر کیلئے بھی"۔(صفحہ 202) رشدی بار بار اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ تمام اہل قلم کی آزادی تقریر کے حق کیلئے کوشاں ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اس کی تمام کوششیں ذاتی وجوہات کی بناء پر ہیں۔جولوگ ہیرو ہوتے ہیں ان کے چال چلن کیلئے جو معیار ہوتا ہے وہ ہر گز اس پر چسپاں نہیں ہوتا ہے۔اس کی سابقہ بیگم میری این وگنز (Marianne Wiggins) نے رشدی پر اس موقعہ پر اعتراض کیا جب اس نے خطرے سے دو چار غیر معروف ادیبوں کی جدو جہد کی حسب استطاعت حمایت نہ کی اور نہ ہی نسلی برتاؤ کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔میری این نے کہا : " ہم سب کی خواہش تھی کہ کاش یہ انسان اتنا عظیم ہوتا جتنا کہ یہ واقعہ تھا۔یہ وہ راز ہے جس کو ہر کوئی چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔وہ ہر گز عظیم انسان نہیں ہے"۔(Anne McElvoy, The Times, August 26,1995 ) میری این یقیناً یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ یہ راز دبیز پردوں میں پوشیدہ رکھا گیا ہے کیونکہ رشدی پر شہرت اور تعریف کے ڈونگرے ہر طرف سے برسائے جارہے تھے۔چونکہ اس کی 171)