سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 168
ذرائع ابلاغ اس کی پشت پناہی کر رہے تھے اس نے ان مواقع سے پورا پورا استفادہ کیا۔اس نے محسوس کیا کہ برطانوی حکومت نے اس کے ساتھ دھو کہ کیا یعنی انہوں نے اس کے کیس کو نظر انداز کر دیا تھا۔اس امر کا اظہار اس نے برسر عام کیا تا وہ ہمدردی حاصل کر سکے۔اس کو بخوبی علم تھا کہ برطانیہ جیسی طاقتور حکومت کے سایہ عاطفت میں رہ کر ہی وہ ذاتی حفاظت حاصل کر سکے گا۔لندن کے سٹیشنر ز ہال (Stationer's Hall ) میں اس کو 14 فروری 1992 ء کو تقریر کر نیکی دعوت دی گئی جو ترمیم کے بعد اگلے روز The Times اخبار میں "مجھے ہرگز فراموش نہ کر دیا جائے " کے عنوان کے تحت شائع ہوئی۔یہ مضمون اس کی گویا ذاتی فریاد تھی کہ اس کو لگے ہاتھوں فروخت نہ کر دیا جائے: "میں برطانوی حکومت کے ساتھ حریفانہ تعلق نہیں رکھنا چاہتا کیونکہ اس نے مجھے تحفظ فراہم کیا ہے اور یہی میرے دکھ کے مداوا کی آخری امید ہے۔لیکن میری خواہش ہے کہ حکومت میرے لئے یہ ماننا آسان کر دے کہ وہ پورے زور وشور اور عزم کے ساتھ میری طرفداری کرتی ہے"۔اس کی دیدہ دلیری دیکھئے کہ وہ مخصوص مطالبات پیش کر کے حکومت پر زور ڈالتا ہے کہ : ایران کے ساتھ کوئی لین دین جس میں رشدی کے کیس کا کھلے عام اور مؤثر سمجھوتہ شامل نہیں کیا جاتا وہ قابل قبول نہ ہوگا"۔شاید وہ اس قدر جرات کے ساتھ حکومت سے اس لئے تقاضا کر رہا ہے کیونکہ اس کو قبل از وقت وعدہ دیا گیا تھا کہ حالات اس قدر سنگین نہ ہو پائیں گے جتنے کہ اب ہو گئے تھے۔ظاہر ہے کہ وہ نام فراہم کرنے سے مجبور ہے۔وہ پنجرے میں قید ایک بھرے ہوئے زخمی جانور کی طرح تھا جس کو یہ علم نہ تھا کہ وہ اس دگرگوں حالت میں کیا کرے۔اس کی نا تواں کوشش کہ اس کو مسلمان برادری میں دوبارہ شامل کر لیا جائے بری طور پر نا کام ہوگئی تھی۔اسکے حلقہ بگوش اسلام ہونے کے پیچھے جو عیاری اور مکر چھپا ہوا تھا وہ سب نے بھانپ لیا تھا۔یہ بات وثوق کے ساتھ اس کے ایک نایاب انٹرویو سے ثابت ہوتی جو رشدی نے دی ٹائمنر کی این میک الوائے (Ann McElvoy ) کو دیا تھا اور جو 26 اگست 1995 ء کو منظر عام پر آیا تھا۔انٹرویو کر نیوالی خاتون کے الفاظ میں ہی اس انٹرویو کا پیش کرنا باعث دلچسپی ہوگا: 168