سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 143 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 143

تصویر بنانے پر موت کی سزا۔کیا اسلام اتنا کمزور مذہب ہے کہ خیالی کیچڑ اچھالنے پر بچوں کو قتل کر دیا جائے؟" انسان حیرت کی تصویر بن جاتا ہے کہ The Times جیسے مؤقر اخبار نے اپنے ایک صحافی کو ایسا گزند دینے والا اور نقصان دہ مضمون لکھنے کی اجازت دی جس سے مشرق اور مغرب کے مابین تعلقات استوار ہونے میں کوئی فائدہ نہیں ہونا تھا۔مثلاً اس کا یہ لکھنا کہ : " میں کسی اور مذہب کے بارہ میں نہیں جانتا جو مقابلہ کے خوف سے گھبراتا ہو۔اور یہ بہت طنز آمیز بات ہے کہ ایسا مذہب جو سب سے زیادہ کمزور ہے۔وہ سب سے زیادہ ظالمانہ اشتعال انگیز اور جنونی ہے"۔اس کا مضمون اس نفرت انگیز تنبیہ کے ساتھ ختم ہوتا ہے: " پاکستان کے خلاف تنفر اتنا گہرا اتنا دیر پا اور اتنا فیصلہ کن ہوگا کہ ان کے ملک کا نام تھوکنے کے بغیر بھی سنے میں نہ آئیگا۔" ( The Times, 17 Feb۔1995) برنارڈ لیوین جیسے صحافیوں کا شکریہ کہ یہ نفر پاکستان اور خاص طور پر اسلام کے خلاف ایک جاری رہنے والا چکر ہے۔آج کے ناقدین تو جلتی پر تیل پھینک رہے ہیں۔تک خدا و رسول کے بارہ میں اسلامی تعلیمات رشدی افیئر نے اخلاقی جرائم جیسے بہتک خدا و رسول، ارتداد اور الحاد کے متعلق بعض بنیادی مسائل کھڑے کر دئے ہیں۔مغرب میں اسلام کے بارہ میں آجکل یہ تصور پایا جاتا ہے کہ یہ تنگ نظر، غیر روادار اور بر بریت پر مبنی مذہب ہے جو تلوار کی نوک پر تبدیلی مذہب کا پر چار کرتا اور ہتک خدا اور رسول کی سزا موت قرار دیتا ہے۔لیکن جیسا کہ میں ابھی تفصیل سے واضح کرونگا یہ باتیں حقیقت سے کوسوں دور ہیں۔آزادی تقریر اور آزادی ضمیر پر قرآن مجید میں ایک بھی ایسی آیت نہیں جو ان پر پابندی عائد کرتی ہو۔ذاتی عقائد اور نظریات طریق زندگی اور کسی کے ذاتی عقیدہ کو نظر انداز کرتے ہوئے قرآن پاک ہر انسان کو مکمل بنیادی حقوق عطا کرتا ہے۔قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے: لَا إِكْرَاهَ في الدِّينِ (سورة البقرة - 2:257) یعنی، دین کے معاملہ میں کوئی جبر نہیں۔اگر چہ بعض لوگوں نے اپنی غیر رواداری اور تنگ نظری کو اسلام سے منسوب کر دیا ہے ، قرآن پاک سے موہوم سی شہادت 143