سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 142
خلاف ورزی کرتے ہوں۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ بالعموم مسلمان اپنے مذہب سے کچھ زیادہ ہی دلی لگاؤ رکھتے ہیں۔ایسا مذہب جو تمام انبیاء کرام پر ایمان لانا واجب قرار دیتا ہے۔اس لئے لازما وہ انبیاء کے دفاع صلى الله کیلئے جھٹ سے تیار ہو جاتے ہیں چاہے یہ محمد ﷺے ہوں یا حضرت عیسی علیہ السلام۔حضرت موسیٰ علیہ السلام یا کوئی اور نبی۔اس کی بہترین مثال ایک فلم The Last Temptation of ' Christ کی ریلیز تھی۔بعض کا کہنا تھا کہ کسی اور مذہبی گروہ کی نسبت مسلمان اس فلم کے خلاف احتجاج کرنے میں زیادہ جو شیلے تھے۔یہ سچ ہی ہوگا مگر ایک اور بات جو دل کو لگتی ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے عقائد میں استقامت رکھتے ہیں اور یہ کہ وہ دوسرے ادیان کے رسولوں کا کما حقہ احترام کرتے ہیں۔بہت ہی اچھا ہو گا اگر دونوں طرف سے اس قسم کے جذبات کا اظہار ہو۔مزید یہ کہ برطانیہ جو کہ ایک عیسائی ملک ہے اس نے اس فلم کے دکھائے جانے کی اجازت دی تھی۔اس امر سے عوام الناس کا رجحان مذہب کے بارہ میں واضح ہوتا ہے۔یہ کوئی حیرانگی کی بات نہیں کہ ایسے لوگ مذہب سے منسلک معاملات میں مسلمانوں کے غصہ کا اندازہ بالکل نہیں کر سکتے۔یہ کہنا مناسب ہوگا کہ دنیا میں عموماً اور برطانیہ میں خاص طور پر اخلاقی تنزل آنے سے لوگ چونکہ مذہب سے متنفر ہو کر دور ہو رہے ہیں اس کے نتیجہ میں ہتک خدا و رسول کے قانون کو لوگ فرسودہ اور ماضی کی یاد قرار دینے لگے ہیں۔لیکن وہ ممالک اور ادیان جہاں مذہب ابھی بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے ہتک خدا اور رسول کا مسئلہ سنجیدگی کے ساتھ لیا جاتا ہے۔مغربی مبصرین لوگوں کے قوانین اور عقائد کی ہتک پر کیوں تلے ہوئے ہیں چاہے ان کو یہ عقائد کتنے ہی ظالمانہ اور فضول نظر آتے ہوں؟ مثال کے طور پر دو پاکستانی عیسائیوں کے مقدمہ کو لیجئے جن کو ہتک رسول کے قانون کی خلاف ورزی کرنے پر فروری 1995ء میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔پوری دنیا میں یہ سنسنی خیز خبر جلی سرخیوں کے ساتھ پھیلائی گئی۔اس سے مغربی ذرائع ابلاغ کو ایک اور موقعہ مل گیا کہ وہ اسلام کو بربریت اور غیر انسانیت سے جوڑ دیں۔دی ٹائمز اخبار کے رائیٹر برنارڈ لیوین Bernard) Levin نے ایک بہت ہی نقصان دہ مضمون اس واقعہ پر لکھا جس کا عنوان دل فگار تھا: " دیوار پر 142