سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 144 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 144

نہیں ملتی جس سے یہ ثابت کیا جاسکے کہ اسلام ہتک خدا اور رسول کیلئے یا ایسی دیگر واہیات باتوں کیلئے موت کی سزا تجویز کرتا ہے۔اس کے برعکس مسلمانوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ وہ مشرکین کے دیوتاؤں کونشانہ تضحیک نہ بنا ئیں۔ارشاد ربانی ہے: وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّو اللهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ (سورة الانعام - 6:109) تر جمہ۔" اور تم ان کو گالیاں نہ دو جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ورنہ دشمنی کرتے ہوئے بغیر علم کے وہ اللہ کی شان میں گستاخی کریں گے "۔اور یہ اس امر کے باوجود ہے کہ بت پرستی سب سے قبیح گناہ ہے جو کوئی شخص کر سکتا ہے۔اس لئے مسلمانوں کو اس بات کی اجازت ہی نہیں دی گئی کہ وہ خدا کی نگاہ میں سب سے غضب آلود چیز کو گالیاں دیں۔قرآن حکیم جیسی اعلیٰ وارفع تعلیم کی مثال آج کے' مہذب دورا میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی ہے۔قرآن حکیم تو مسلمانوں کو نصیحت کرتا ہے کہ وہ دوسروں کے مذہب کا احترام کریں جبکہ برطانوی کامن لاء اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ ہر کوئی اپنے مذہب کا ہی احترام کرے۔اس کے باوجودلوگ اسلام پر ہی الزام عائد کرتے ہیں کہ یہ پسماندہ ہے۔خدا کی شان میں گستاخی سے بڑی کوئی اور گستاخی ہو نہیں سکتی۔اس کے باوجود قرآن ہتک خدا کے سنگین جرم کی کوئی سزا مقرر نہیں کرتا اس لئے ہتک رسول کے لئے کیسے حد مقرر کی جاسکتی ہے۔انبیاء کرام محض فانی انسان تھے۔محمدمصطفی خاتم النبین ﷺ کی زندگی کا ایک سبق آموز واقعہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ آپ کے نزدیک ہتک رسول کی کیا وقعت تھی۔جب نبی پاک ﷺ مدینہ کے فرماں روا تھے تو آپ کی مبارک ذات کے خلاف ہتک کا ایک نہایت بہیمانہ واقعہ رونما ہوا۔ایک منافق جس کا نام عبد اللہ ابن ابی ابن سلول تھا۔اس کی عزیز ترین خواہش تھی کہ وہ مدینہ کا والی بن جائے مگر آپ کی آمد سے اس کی یہ خواہش ناکام ہوگئی۔ایک جنگی مہم کے دوران اُس نے یہ شیخی ماری کہ: لَئِنْ رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْاعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ (سورۃ المنافقون 63:9 ) ترجمہ۔"اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹیں گے تو ضرور وہ جو سب سے زیادہ معزز ہے اسے جو سب سے زیادہ ذلیل ہے اس میں سے نکال باہر کرے گا"۔ابن ابی کی اس شیخی پر صحابہ کرام رضوان اللہ طیش میں آگئے، بلکہ اس کا بیٹا جو کہ ایک مخلص مسلمان تھا 144