سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 141
کتاب کے پبلشر وکٹر گولانز (Victor Gollancz ) کے ایک ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ ہمارے پاس ایک شکایت آئی تھی جس کے نتیجہ میں ہم نے اس کتاب کی اشاعت التوا میں ڈال دی ہے۔(1995) Times 28th March )۔پبلشر کی طرف سے مفاہمت کی یہ کتنی عمدہ مثال ہے کہ انہوں نے کتاب کی اشاعت اس لئے التوا میں ڈال دی کیونکہ اس طرح جان کری کے خاندان کے چند افراد کے جذبات مجروح ہوتے تھے۔لیکن اس کے برعکس دنیا بھر میں بسنے والے کروڑ ہا مسلمانوں کے جذبات کا کیا کسی کو احساس ہے جو The Stanic' 'Verses کی اشاعت کے بعد برے طور پر مجروح ہونے والے تھے۔The Stanic' 'Verses کے پبلشر اور مصنف دونوں کو اس کاری گھاؤ کا خوب علم تھا جو اس ناول نے اسلامی دنیا پر لگا نا تھا اور اس کے نتائج اور ردعمل کا بھی۔شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہتک خدا و رسول کے قوانین کا سنجیدگی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے، ایک قانون جو صرف ایک مذہب کی حفاظت کرتا ہے اس کا کوئی مصرف نہیں " محولہ بیان سرکاری وکیل جیفری را برٹ سن کیوسی G۔Roberston QC) کا ہے جو لندن کے اخبار The Times میں 25 جولائی 1989 ء کو شائع ہوا تھا۔اس نے ایک اور دلچسپ نقطہ بیان کیا کہ ارشدی کی اپنی شہادت عدالت میں قابل قبول نہ ہوگی کیونکہ 1979ء میں ہاؤس آف لارڈز نے 3:2 کے ووٹ سے یہ فیصلہ دیا کہ ہتک خدا و رسول کر نیوالے شخص کی نیت خارج از بحث ہوگی صرف اس سے پیدا ہو نیوالے نتائج اہمیت رکھتے ہیں'۔مسٹر رابرٹ سن نے مزید کہا کہ : اہتک عزت کے دعوئی میں ادبی معیار کوئی قابل قبول دفاع نہیں ہوتا'۔ہتک خدا و رسول سے متعلق موجودہ قوانین کو وہ ذمہ وار ٹھہراتا ہے: ( قوانین ) اس قدر مبہم ہیں کہ کوئی شخص پہلے سے یہ بات ثابت نہیں کر سکتا کہ آیا کوئی کتاب قابل تعزیر ہوگی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہتک خد اور سول کے قوانین دوسرے قوانین کے مقابلہ میں کمزور ہیں۔ذرائع ابلاغ میں فحاشی اور بے حیائی پر عائد پابندیوں کی بھر مار جس کا مقصود مقدس اشیاء کا نخش نگاری کے طور پر اظہار ، پبلک آرڈر قانون کے ماتحت دھمکی دینا، بے عزتی کرنا اور گالی گلوچ کے استعمال، یا ایسی تحریر جس سے امن ٹوٹنے کا خدشہ ہو ، نیز دوسرے کئی ایک قوانین ایسے لوگوں کو سزا کا مستحق قرار دیتے ہیں جو مذہبی عبادات کی 141)