سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 138 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 138

1697ء میں دی گئی تھی۔برطانوی پارلیمنٹ نے اگلے سال 1698ء میں ہتک خدا اور سول کے متعلق ایک نیا قانون پاس کیا جس کے تحت سزائیں کم کر دی گئیں۔اگلی صدی میں مذہب سے متعلق آزادی تقریر میں ایک نئے عہد کا دور شروع ہوا۔اس کے بعد ہتک خداورسول کے قانون کی خلاف ورزی کرنے والے زیادہ تر آزاد خیال، عقلیت پسند، لا ادریے، اور دہریے تھے۔اپنے عقائد کے دفاع میں یہ لوگ اب پریس کی آزادی اور آزادی مذہب پر انحصار کرنے لگے تھے۔تک خدا و رسول کا قانون بیسویں صدی میں بیسویں صدی اگر چہ مذہب پر اعتقاد کے لحاظ سے اتنی اہم نہ تھی جتنی کہ اس لحاظ سے کہ جادوگر نیوں ، ہتک خدا اور رسول کر نیوالوں، اور ملحدوں کو آگ کی نذر کر دیا جاتا تھا۔لیکن اس صدی کے شروع میں ہتک خد اور سول قابل تعزیر تھے اور اس کی سزا قید تھی۔عیسائی دنیا میں 1920 ء اور 1930ء کی دہائیوں میں ہتک خدا و رسول کے بہت سارے واقعات وقوع پذیر ہوئے۔مثلاً برطانیہ میں ایک ہتک خدا و رسول کر نیوالے منکر دین کو اس لئے جیل میں ڈال دیا گیا کیونکہ اس نے انجیل کے خلاف بدترین مغلظات بکی تھیں۔خاص طور پر یسوع مسیح کے بارہ میں اس کا کہنا کہ وہ یروشلم یوں داخل ہور ہا تھا: " جیسے وہ سرکس کا دو گدھوں پر بیٹھا مسخرہ ہو " (Rex v۔Gott, 16 Crim۔App۔Rep۔37; 1922) امریکہ کی ریاست مین (Maine) نے ایک انتہا پسند کو اس لئے قید کی سزا دی کیونکہ اس نے دین کا انکار ہتک آمیز رنگ میں کیا تھا۔وہ بن باپ پیدائش اور خدا کے (Incarnation) کے عقائد کا منکر تھا۔84 State v۔Mockus, 12 Maine) (1921۔اس طرح میسا چوسٹس (Massachusetts) کی ریاست نے ایک شخص پر اسلئے مقدمہ دائر کر دیا کیونکہ وہ خدا کی ہستی اور یسوع مسیح کی الوہیت کا منکر تھا۔اسی ریاست میں ایک مصنف جس نے فری میسن پر کتاب لکھی اس میں اس نے یسوع مسیح کو بد اخلاق لکھا تو اس کو قید خانے کی نظر کر دیا گیا۔ایک اور امریکی ریاست ارکن سا (Arkansas ) نے ایک انجمن امریکن ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف ایتھی ازم' American Association) (for The advancement of Atheism کے صدر کو اس لئے ملزم قرار دیا کیونکہ اس 138)