سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 139
نے بائبل کی تخلیق کی کہانی کا استہزاء کیا تھا۔(New York Times, February 19, 1926) کینیڈا میں ایک پمفلٹ جس میں رومن کیتھولک چرچ پر کڑی تنقید نیز اس میں ہتک خد اور سول بھی کی گئی تھی اس کو قابل تعزیر سمجھا گیا۔اور ایک اور معاملہ میں ایک دہریت کے رسالہ کے ایڈیٹر کو قید کر کے ملک بدر کر دیا گیا کیونکہ اس نے ایک مضمون میں جیہووا Jehovah) (Witness مذہب کے بارہ میں ہنسی مذاق کے رنگ میں نا معقول حوالے دئے تھے۔(1927 Canadian Bar Rev; V, May)۔یہ بات دلچپسی سے نوٹ کرنے کے لائق ہے کہ کینیڈا کے اجیہو مقدمہ میں ٹرائیل جج نے جیوری کو تاکید کی 'مذہب سے زیادہ ہمارے لئے کوئی اور چیز مقدس نہیں ، اس لئے کسی قسم کی بد زبانی، یا غیر معقول تحریر جو خدا سے ڈرنے والوں کے نزدیک قابل اعتراض ہے وہ ہتک خدا و رسول ہے۔برطانیہ کے ملک میں بھی جہاں آزادی تقریر کی اتنی قدر کی جاتی ہے ، عیسائیت ابھی تک ملک کا سرکاری مذہب ہے۔تاہم یہاں یہودیت اور غیر نصرانی مذاہب کے بارہ میں کلمہ تکفیر بولا نہیں جاسکتا۔1978ء میں کورٹ آف اپیل نے ہتک خدا و رسول کے ایک مقدمہ میں سزا برقرار رکھی۔اس مقدمہ میں مجرم کا نام جیمز کر کپ (J۔Kirkup) تھا جو ایک غیر معروف ہر دو ہفتہ بعد شائع ہو نیوالے جنسی رسالہ "گے نیوز " (Gay News) کا ایڈیٹر تھا۔اس میں اس نے ایک نظم شائع کی ( محبت جس کا نام زبان پر لانے کی جرات نہیں ) The Love That Dares to Speak its Name جو لگتا تھا کسی رومن سو سپاہیوں کے افسر نے صلیب کے سائے میں بیٹھ کر لکھی تھی۔نظم میں اس افسر اور یسوع مسیح کو اغلام باز کے طور پر پیش کیا گیا اور دونوں کے درمیان مباشرت کے فعل کو بیان کرنے کیلئے ایسے مخش الفاظ استعمال میں لائے گئے جو ایمان لانے والوں کا دل دکھا دینے والے تھے۔حیرانگی کی بات یہ ہے کہ جیمز کر کپ کو برطانیہ کے ممتاز اہل قلم اور نقادوں نے قابل احترام ادیب قرار دیا۔اس کے مقدمہ کا سرکاری وکیل متعصب شخص نہ تھا اور اس نے لارڈ کولرج کے 1883ء کے قانون کو دوبارہ لکھے جانیکی درخواست کی ، جو کچھ یوں ہے : " تم یہ کہ سکتے ہو کہ یسوع 139