سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 137
اس کی ان التجاؤں کے باوجود کسی کے سر پر جوں تک نہ رینگی اور برونو قید میں ہی رہا۔سلمان رشدی کی اذیت ناک داستان بھی اس سے بہت مشابہت رکھتی ہے۔اس کے ناول نے اس کو مسلمان علماء کے مد مقابل لا کھڑا کیا۔اس پر ہتک خدا و رسول اور کفر کے الزامات عائد کئے گئے۔جب لوگوں نے اس کے متنازع ناول کی اشاعت کے بعد اس کا سامنا کیا تو اس نے اپنے قبیح فعل کا پوری قوت کے ساتھ دفاع کیا۔اس نے آزادی تقریر کے حق کا سہارا لیا تاہم اس نے یہ بھی کہا کہ اس کا مقصود نہ تو اسلام اور نہ ہی حضور نبی پاک ﷺ کی اہانت کرنا تھا۔اس کے بعد رشدی نے تو بہ کا اعلان کیا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ اسے حلقہ بگوش اسلام سمجھا جائے۔لیکن اس کے باوجود جب فتویٰ کا حکم منسوخ نہ کیا گیا تو اس نے ایک بار پھر اپنے ناول کا دفاع شروع کر دیا۔بلکہ پہلے سے بڑھ کر ادبیوں کے حقوق کا دفاع کرنے لگا۔برونو کو بعد میں وینس سے روم منتقل کر دیا گیا کیونکہ مذہبی عدالت کے افسر اعلیٰ نے کہا کہ برونو کوئی عام سا ملحد نہ تھا۔، اس کو ملحدوں کا سرغنہ قرار دیا گیا بلکہ الحادکو شروع کرنے والا۔روم کی مذہبی عدالت کی کال کوٹھڑی میں اس کو سات سال تک قید رکھا گیا۔اس پر الحاد کے مزید الزامات عائد کئے گئے۔جب آخری بار اس سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے اعلان کر دیا کہ وہ اپنے گمراہ کن عقائد سے دست بردار ہو جائیگا۔اس کو سولی پر چڑھا کر نذر آتش کئے جانیکی سزا سنائی گئی جس پر عملدرآمد 17 فروری 1600ء کو کیا گیا۔(Leonard Levy, Treason against God, pp۔152/155) رشدی نے بھی ایک بار پھر پبلک کے سامنے کھل کر آنے کی ہمت کی۔سات سال کی روپوشی کی زندگی سے جب وہ تنگ آگیا تو ستمبر 1995 ء میں اپنے نئے ناول The Moor's Last Sigh کے افتتاح کیلئے عوام کے سامنے آیا۔اپنے گناہ پر نادم ہوئے بغیر اور اس کے باوجود کہ اُس پر لگائے گئے فتویٰ کا خطرہ ابھی تک اُس کے سر پر تھا۔بعض لوگوں کے نزدیک یہ رشدی کی جرات مندانہ حرکت تھی اور بعض کے نزدیک حماقت۔بہر حال یہ تو آنے والا وقت ہی بتلائے گا۔ہتک خدا و رسول کے جرم میں برطانیہ میں آخری بار پھانسی سکائش قانون کے تحت 137)