سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 136
قیود وضوابط پر اظہار خیال کیا اور اس بات کا دعوی کیا کہ اس کو مکمل آزادی کے ساتھ اپنے خیالات بیان کرنے کا حق حاصل ہے۔جلا وطنی میں برونو مغربی یورپ کے شہروں میں در بدر پھر تار ہا جہاں وہ کبھی درس و تدریس اور کبھی کتابیں لکھنے میں مشغول رہا۔اس نے یکے بعد دیگرے کتابیں تصنیف کیں۔اس پر عزت افزائیاں نچھاور کی جانے لگیں۔حتی کہ فرانس کے بادشاہ نے اس کو ذاتی طور پر فلاسفی کے لیکچرار کی ملازمت کی پیش کش کی۔اس کے بعد وہ لندن، آکسفورڈ، پراگ، زیورک اور فرینکفرٹ میں لیکچر دیتارہا۔رشدی کا بھی یہی حال ہے۔جلاوطنی کے دوران وہ بھی یورپ میں گھومتا رہا اور ہر کس و ناکس کے پاس ہمدردی لینے کیلئے گیا۔وہ ابھی بھی یکے بعد دیگرے کتا ہیں لکھ رہا اور ٹیچر دے رہا ہے۔اس کو بھی لٹریری ایوارڈ اس کے خیر خواہوں نے درجنوں میں دئے ہیں۔برونو کے نظریات اور اس کے ارسطو ازم پر جارحانہ حملوں نے اس کو چرچ کے مد مقابل لا کھڑا کیا۔اس کے متنازع خیالات نے بائبل کو مستر د قرار دیا مگر اس کے باوجود وہ نزاعی کتابیں تصنیف کرنے میں مصروف رہا۔بالآخر وہ کیتھولک فرقہ کی مذہبی عدالت ( Inquisition) کے سرکردہ افراد کے متھے (ہاتھ) چڑھ گیا جب 1592ء میں وہ اٹلی واپس لوٹا۔اس پر ہتک خداورسول کا الزام عائد کیا گیا۔پہلے تو اس نے اپنا دفاع پوری جاں بازی سے کیا اور بہتک خدا ورسول اور الحادی غلطیوں کے الزامات سے خود کو بری قرار دیا۔اس نے اپنے فلسفہ کے بارے میں آزادی اظہار خیال کا سہارا لیتے ہوئے فطرت کے قوانین کے مطابق دلائل دینے کی کوشش کی۔البتہ اس نے اس امر کا اعتراف کیا کہ اس کی فلاسفی الہامی صداقت سے میل نہ کھاتی ہو لیکن اس کا مقصد ہرگز مذہب کی تردید کرنا نہ تھا۔آخر کار اُس کے معاملہ میں تحقیقات کرنے والے افسران نے اس کو مجبور کیا کہ گھٹنوں کے بل جھک کر عدالت سے رحم کی درخواست کرے : " ہولی چرچ کے احکامات اور کیتھولک مذہب کے خلاف میں نے جو فاش غلطیاں کی ہیں میں ان کو قابل مذمت سمجھتا ہوں۔میں ہر وہ چیز جس کا کیتھولک چرچ سے تعلق ہے اس کو شک کی نگاہ سے دیکھنے پر تو بہ کرتا ہوں۔" (Quotations from Boulting, Bruno, pp 276/277) 136